خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 86
خطابات شوری جلد دوم ۸۶ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء میں شرما ئیں نہیں۔آپ لوگوں میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اس فنڈ میں کچھ نہ کچھ جمع کرنے کا عہد کرے۔خواہ کوئی ایک روپیہ یا ایک پیسہ ہی جمع کر کے لائے اور اگلی مجلس شوری تک کوئی ایسا نہ رہے جو کچھ نہ کچھ جمع نہ کرے۔اگر کسی کے لئے یہ موقع نہ ہو کہ وہ دوسروں سے مانگ سکے تو وہ دوسروں کی کوئی خدمت کر کے ہی کوئی اُجرت وصول کرے اور اُسے اس فنڈ میں دے دے مگر اس فنڈ میں کچھ نہ کچھ داخل ضرور کرے۔چونکہ اس وقت ہر ایک سے فرداً فرداً پوچھنا مشکل ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے دل میں عہد کر لیا ہو کہ وہ اس فنڈ کے جمع کرنے میں حصہ لیں گے خواہ وہ حصہ ایک پیسہ ہی ہو یا دس ہزار روپیہ ہو، وہ کھڑے ہو جائیں۔‘“ اس پر تمام نمائندگان نے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور جمع کریں گے۔اس پر حضور نے فرمایا :- ”سب کے سب دوست کھڑے ہو گئے ہیں جن کی تعداد ۴۳۷ ہے اور مجھے کم از کم اتنے پیسوں کی ضرور امید رکھنی چاہئے کہ جمع ہو جائیں گے۔یہ بھی امید ہے کہ وہ دوسرے دوستوں میں بھی اس کی تحریک کریں گے اور پھر ہر جماعت مجھے اطلاع دے کہ اتنے دوستوں نے اس فنڈ میں حصہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔یہ بات یاد رکھو کہ جتنی رقم کا کوئی وعدہ کرے وہی لکھی جائے اُسے بڑھانے کے لئے نہ کہا جائے۔پھر جو دوسری مجلس شوریٰ ہوگی (اکتوبر ۱۹۳۶ء میں ) اُس وقت میں اس پر تبصرہ کروں گا کہ دوستوں نے اس تجویز کے متعلق کیا کام کیا ہے۔میں اس تحریک کے لئے کم از کم ایک پیسہ رکھتا ہوں۔اگر کوئی شخص اس عرصہ میں ایک پیسہ بھی کسی سے حاصل نہ کر سکا تو وہ مجلس مشاورت میں شرکت کے لئے آتے وقت اسٹیشن پر کھڑا ہو کر مانگ کر لے آئے یہ چندہ احمدی کے سوا ہر ایک سے لیا جاسکتا ہے خواہ وہ کوئی ہو یہ صدقہ نہیں بلکہ چندہ ہے اور کوئی شخص مجاز نہ ہوگا کہ اپنے پاس سے یا کسی احمدی سے لے کر یہ رقم ادا کرے۔امانت فنڈ میں احباب حصہ لیں (۱۱)۔گیارہویں بات یہ ہے کہ امانت فنڈ میں حصہ لیا جائے۔دوستوں نے پہلے سال کافی حصہ لیا مگر اس سال اس میں کمی آگئی ہے حالانکہ کمی کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ تین سال کے بعد نقد یا