خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 58

خطابات شوری جلد اوّل ۵۸ مشاورت ۱۹۲۳ء موقع اور محل پر خرچ کرنا چاہئے اور ہر موقع کے مناسب ورنہ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ موقع اور محل پر بھی نہ خرچ کیا جائے کیونکہ اگر یہ معنے ہوں تو اعتراض ہو گا کہ حضرت ابو بکر نے غلطی کی جو سارا مال دے دیا۔پس سوال یہی ہے کہ موقع کے مناسب خرچ ہونا چاہئے۔جیسا اہم موقع ہو اُسی کے مطابق خرچ کرنا چاہئے۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ہماری جماعت کے احباب اس فرض کو پورا کر دیں۔یہ ضروری نہیں کہ ابھی سب کچھ دیں۔جب ایسا وقت ہو گا کہ ہمیں سب کچھ ہی دینا چاہئے تو ہمیں اُس وقت سبھی کچھ قربان کر دینا چاہئے۔مجھے نظر آتا ہے کہ اب شیطان کا سر کچلا جائے گا لیکن ابھی ایسا وقت آئے گا کہ کشتی بھنور میں ہوگی اور چاروں طرف سے حملے ہوں گے۔دوسرا مشورہ طلب سوال اس میں یہ ہے کہ آدمی کیسے مہیا ہوں۔میں نے پہلے ۱۵۰ آدمیوں کے متعلق اعلان کیا تھا کہ تین تین مہینہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اب تک ۱۷۰ درخواستیں آچکی ہیں لیکن کام کی رفتار دیکھ کر نہیں کہا جا سکتا کہ ہمیں کس قدر آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ممکن ہے ایک وقت میں دو ہزار کی ضرورت پڑے۔فی الحال میرا خیال ہے لوگوں کی مرضی پر رہنے دیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو لازمی طور پر سب کو زندگی وقف کرنی پڑے۔ممکن ہے تین لاکھ کا سوال پیدا ہو۔قرآن کریم میں آتا ہے وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَا مُرُونَ بالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ہے پس قرآن کریم کا منشاء ہے کہ ایک جماعت ہر وقت خدمت دین میں رہے اس لئے وقت آتا ہے کہ ساری جماعت اسی طریق پر اپنی زندگی وقف کرے اور ان کو یکے بعد دیگرے کام پر لگایا جائے۔بہر حال اس پر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح کام کیا جائے۔پھر میں نے کام کے متعلق یہ سوچا ہے کہ تین طریق پر کام کیا جائے۔(۱) دفاع (۲) حفاظت۔(۳) حملہ۔جب تک ان تینوں طریقوں پر عمل نہ کیا جائے اُس وقت تک دشمن کو شکست نہیں ہو سکتی۔محض دفاع اور حفاظت سے دشمن کے منصوبے خاک میں نہیں مل سکتے جب تک Counter Attack نہ کیا جائے۔پس ہمارے لئے وہاں دفاع کی ضرورت ہے جہاں دشمن کا حملہ ہو رہا ہے اور حفاظت کی وہاں ضرورت ہے جہاں مخالف کا حملہ نہیں مگر حالت نازک ہے، خطرہ ہے اور