خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 59
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۵۹ مشاورت ۱۹۲۳ء حملہ وہاں کرنا چاہئے جہاں دشمن کے کمزور حصے ہیں۔جب تک حملہ نہ ہو اُس وقت دفاع کرنے والے کمزور حالت میں ہیں جب تک دشمن کو اُس کے گھر ہی کی فکر نہ پڑ جائے اُس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا۔پس اس وقت ہمیں یہ بھی انتخاب کرنا ہے کہ ہندوؤں کی کس قوم کو انتخاب کیا جائے۔تیسرا سوال مشورہ طلب یہ ہے کہ : - سالانہ جلسہ گاہ کے لئے چونکہ جگہ کی تنگی ہے ایک مستقل جلسہ گاہ کے بنانے پر غور کیا جائے گا۔اس امر کے متعلق فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ جلسہ گاہ جو ہر سال تیار ہوتا ہے باوجود انتہائی کوشش فراخ کرنے کے ناکافی ثابت ہوتا ہے اور اس میں اتنی گنجائش نہیں نہ کوئی صورت ہے کہ اس کو فراخ کیا جائے۔سوال یہ ہے کہ جلسہ گاہ پختہ بنائیں۔میدان میں بنائیں یا کیا صورت اختیار کریں اور پھر جلسہ گاہ مستقل ہونا چاہئے یا ہر سال عارضی ہی بنایا جائے؟ پانچواں سوال یہ ہے کہ : - لاہور میں احمد یہ ہوٹل کی مضبوطی اور اس کو وسیع کرنے کے سوال پر غور کیا جائے گا۔“ یہ سوال نہایت ضروری ہے فی الحال ہم کالج نہیں بنا سکتے مگر ہمارے طلباء جو سکول کی تعلیم سے فارغ ہو کر کالجوں میں بغرض تعلیم داخل ہوتے ہیں ان کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے کہ وہ بداثرات سے بچیں اور اپنی مذہبی سیرت کو قائم رکھ سکیں۔اس کے لئے یہ سوچنا ہے کہ اس کی کس طرح تجویز ہو کہ اس میں تمام لڑکے داخل ہوں۔اور پھر اس پر خرچ بھی ہوگا اور یہ جماعت کے ایثار پر موقوف ہے۔چھٹا سوال یہ ہے کہ : - جو لوگ اخلاق کا اچھا نمونہ نہیں دکھاتے یا ان کی زندگی ظاہری طور پر غیر اسلامی ہے اُن کے ساتھ کس طرح معاملہ کیا جائے۔“ ہر جماعت میں منافق بھی ہوتے ہیں چنانچہ یہ لوگ مسلمانوں میں ہی تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور آپ پر عیب لگائے ہیں مثلاً یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ زینب کو شنگی نہاتے دیکھا اور عاشق ہو گئے۔منافقوں نے اس قسم کے گندے اعتراضات آپ پر لگائے اور بعد میں آنے والوں نے نادانی سے ان منافقوں کی