خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 57

خطابات شوری جلد اوّل ۵۷ مشاورت ۱۹۲۳ء تحریک میں چندہ دیا ہے جن کی مالی حالت بہت کمزور تھی مثلاً ایسے جن کی تنخواہ بار بار) روپیہ ماہوار تھی اُنہوں نے بھی سو سو روپیہ دیا ہے۔اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اس چندہ کے متعلق کیا صورت اختیار کی جائے۔بہر حال اب ایک فتنہ پیدا ہو گیا ہے اور یہ اسلام کے لئے مفید ہے جیسا کہ مشہور ہے۔خدا شرے برانگیزد که خیرے ما دراں باشد اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام بھی ہے۔خدایا شرے برانگیز که خیر اسلام دراں باشد پس اس فتنہ کے ذریعہ ہمیں ایسی اقوام کا علم ہو گیا ہے جن کا پہلے پتہ نہ تھا ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے اسلام کی اتنی اشاعت نہ کی جتنی ہمیں کرنی چاہئے تھی مگر خدا نے اب ہمارے لئے راستہ کھول دیا ہے اس وقت قربانیوں کی ضرورت ہے۔بعض لوگ انتہائی تجاویز سنتے ہیں اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ہمارے لئے گھبرانے کی کوئی بات نہیں بلکہ سمجھو کہ ہمیں بہت بڑی بڑی قربانیاں کرنی ہیں۔یہ مت سمجھو کہ ہماری قربانی آخری ہے بلکہ ہمیں بہت قربانیاں کرنی ہوں گی۔یاد رکھو ہم اسلام کو نہیں پھیلا سکتے جب تک ایک ایک چیز قربان نہ کر دیں۔ہم سے پہلے حضرت مسیح کے اصحاب نے گوسولی کے وقت حضرت مسیح کو چھوڑ دیا مگر مسیح کے بعد اُنہوں نے جانیں دے دیں اور بڑی اذیتوں سے دیں لیکن مسیح کے نام کو پھیلا دیا۔اُنہوں نے جان دی، پاس پیسہ نہ رکھا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک گر وہ تھا جو Pauper کہلاتے تھے۔یہ فقیر تھے انہوں نے اپنی ہر ایک چیز عیسائیت کی تبلیغ میں خرچ کر دی تھی یہ لوگ کنگال ہو گئے تھے۔کیا ہم اسلام کے لئے اپنی ہر ایک چیز قربان نہیں کریں گے۔اگر ہم ان سے بڑھ کر ہیں تو ہمیں ان سے بڑھ کر خرچ کرنا ہوگا۔ہمارا مسیح موعود مسیح ناصری سے افضل تھا اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ واقعی وہ افضل ہے کیونکہ خدا نے اس سے وہی سلوک کیا جو افضلوں سے ہوتا ہے۔اب ہمارے متعلق سوال ہے کہ ہم نے جو مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب ہیں، کیا قربانی کی ہے؟ جب تک ہم ثابت نہ کریں ہم افضل ثابت نہیں ہو سکتے۔ابھی حافظ صاحب نے جو آیات پڑھی ہیں ان میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے کہ