خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 34
خطابات شوری جلد اوّل ۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ایک خلیفہ ہو اس پر نہ اختلاف ہم سُن سکتے ہیں نہ اختلاف ہے۔ہم سب اس پر متفق ہیں کہ ایک واجب الاطاعت امام ہونا چاہئے۔پیغام صلح میں حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کو اس لئے پراگندہ طبع قرار دیا ہے کہ اُن کا کوئی امام نہیں۔پس اگر یہاں یہ سوال ہے کہ خلافت کے ماننے والے اپنے اختیارات کو خلیفہ کے مقابلہ میں کس طرح برتیں تو یہ ان مسائل سے ہے کہ جن پر اختلاف کر کے ہم اکٹھے مل کر کام نہیں کر سکتے۔اس موقع پر ھذا فِرَاقُ بَيْنِي وَ بَيْنَگ کہنا چاہئے۔جیسے دو مسلمان اس پر بحث نہیں کر سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے یا نہیں اور اُسی وقت بحث کریں گے جب مسلمان نہ رہیں۔اسی طرح دو احمدی اس پر بحث نہیں کر سکتے کہ مسیح موعوڈ سچے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح خلیفہ اور انجمن کے اختیارات کے بارہ میں بھی ایک جماعت میں بحث نہیں ہو سکتی۔اس سے ٹوٹ کر ہوگی جیسا کہ پہلے ہوا ہے۔کیونکہ یہ ان مسائل سے نہیں کہ اکٹھے رہ کر بحث ہو سکے۔انجمن سیالکوٹ، فیروز پور یا لا ہور کیا چیز ہیں؟ وہ ظل ہیں قادیان کی انجمن کا۔وہ امیر جو فیروز پور یا لاہور ہو وہ ظل ہے خلیفہ کا۔پھر ظل پر وہ حکم کس طرح جاری ہو جو اصل پر نہیں۔اگر صدر انجمن خلیفہ کے حکم دینے سے نہیں ٹوٹتی تو اس کی شاخیں خلیفہ کے قائم مقاموں کے حکم دینے سے کس طرح ٹوٹ جاتی ہیں۔اور اگر صدر انجمن کا ٹوٹنا ما نیں تو ماننا پڑے گا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مجرم ہیں خدا تعالیٰ کے۔اگر یہ نہیں تو ماننا پڑے گا کہ نہ انجمن ٹوٹی اور نہ مسیح موعود کے احکام کی خلاف ورزی کی۔یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔تعجب ہے اصل انجمن کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ نہیں ٹوٹی۔مگر ظل جو ہیں ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ٹوٹ جائے گی۔اس کا کیا یہ مطلب نہیں کہ قادیان والی انجمن خلیفہ کے تقرر سے ٹوٹ جائے تو ٹوٹ جائے مگر ہم امراء کے تقرر سے اپنی انجمنیں نہ ٹوٹنے دیں گے۔اس میں امیر کا تقرر نہ ہوگا۔مگر جب حضرت مسیح موعود کی قائم کردہ انجمن کے متعلق فیصلہ کر دیا کہ اس طرح نہیں ٹوٹتی تو اس کی ظل کس طرح ٹوٹ سکتی ہیں۔صدر انجمن کا قائم ہونا یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت صاحب نے انجمن قائم کی ان بہ باتوں کا جواب ہم دے چکے ہیں۔کیا خلافت راشدہ میں جواب نہیں دیا جا چکا؟ اور ہمارے واعظ آئے دن جواب نہیں دیتے رہتے ؟ الفضل، الحکم اور