خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 35
خطابات شوری جلد اوّل ۳۵ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء الحق کے فائل گواہ ہیں کہ جماعت میں بڑے زور سے یہ بحث اُٹھائی گئی کہ حضرت صاحب نے صدر انجمن کو قائم کیا ہے یا نہیں؟ اور کیا تو کیا مطلب تھا؟ جب قائم ہوئی ہم یہاں موجود تھے جس کے ذریعہ حضرت اقدس سے منظوریاں لیں اور جن کے ہاتھوں قائم ہوئی وہ بتا سکتے ہیں کہ کس طرح قائم ہوئی۔حضرت صاحب کی طرف سے یہ انجمن مقبرہ بہشتی کے متعلق تھی۔انجمن کار پرداز مصالح مقبرہ بہشتی اس کا نام رکھا گیا کہ ایسی مد خاص میں جو روپیہ آئے گا اُس کی نگرانی کرنی پڑے گی۔اس کے لئے آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ مولوی نور الدین صاحب کو اس کام پر مقرر کیا۔پھر کہا گیا کہ یہ فوت ہو گئے تو پھر کیا ہو گا اس لئے ایسا قانون بنایا جاوے کہ بعد میں کوئی فساد نہ ہو۔بعض دوستوں نے کہا انجمن بنا دی جاوے۔پہلے ایک مدرسہ کی انجمن تھی وہی مقبرہ کے لئے مقررتھی، وہی ریویو کے لئے۔انہوں نے حضرت صاحب سے کہا مختلف کام ہیں ان کو اکٹھا کرنے کی اجازت دیں۔آپ نے کہا اچھا اکٹھا کرلو۔یہ تھی تجویز۔نہ یہ کہ ایسی انجمن کے بنانے کی تجویز حضرت صاحب کے ذہن میں آئی اور آپ نے پیش کی اور یہ انجمن بنائی گئی بلکہ جن لوگوں کے سپر د کام تھے اُنہوں نے کہا کہ وقت کا حرج ہوتا ہے اس طرح انتظام ہو۔اور عجب بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک انجمن تھی جس کو حضرت صاحب نے توڑ دیا اور حضرت صاحب نے تو نواب صاحب کو امیر مقرر کیا تھا مولوی محمد علی صاحب ، حضرت مولوی نورالدین صاحب، مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو اس کے ممبر مقرر کیا تھا کہ آپ نواب صاحب کو مشورہ دیں اور جو حکم دیں ماننا ہوگا۔چنانچہ کئی سال تک اس طریق سے کام ہوتا رہا۔اس کے بعد نواب صاحب کے مقدمات تھے اس لئے انہیں لا ہور جانا پڑا اور پیچھے انتظام خراب ہونے لگا۔حضرت صاحب نے جب اُن سے پوچھا تو انہوں نے لکھا کہ ایک تو میں آجکل یہاں رہتا بھی نہیں۔دوسرے جو مشیر رکھے گئے ہیں ان میں سے ایک ایسے رنگ میں اثر ڈالتا ہے کہ چندہ کم ہوتا ہے اس طرح رکاوٹ ہوتی ہے، مجھے فارغ کیا جائے۔آخر یہ انتظام چلتا رہا اور ۱۹۰۶ ء میں اکٹھا کرنے کا مشورہ ہوا۔ایک دن حضرت صاحب اندر آئے تو