خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 33

خطابات شوری جلد اوّل ۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء کے خیالات اُدھر جا رہے ہیں جدھر جانے چاہئیں یا نہیں۔اس لئے میرا فرض ہے کہ جو سوال اصل معاملہ سے تعلق نہیں رکھتے انہیں بھی لوں۔انجمن اور خلیفہ یہ کہنا کہ انجمن ٹوٹ گئی ہے، اس کا رہنا نہ رہنا برابر ہے وہ دوست جنہوں نے یہ بیان کیا اُنہوں نے کہا ہے کہ کل کی تقریروں سے یہ نتیجہ نکلا ہے۔۔مگر کل تقریریں نہیں ہوئی تھیں اور میری تقریر تھی۔گویا اُس سے یہ نتیجہ نکلا ہے۔اُس میں کیا تھا؟ یہ کہ خلافت کا انتظام انجمنوں سے بہتر ہے۔انجمنوں میں طبعی طور پر پارٹیوں کا خیال پیدا ہوتا ہے۔اور ایک دوسرے کو گرانا چاہتا ہے۔مگر یہاں کثرتِ رائے اور ووٹ سے نہیں بلکہ شرعی حقوق خلیفہ کے ہیں کہ مشورہ لیا جاوے گا۔آگے خواہ کثرتِ رائے پسند آئے یا قلت وہ عزم کر کے اعلان کرے گا فیصلہ کا۔یہ خیال آج نئے نہیں۔جو شخص جماعت کے لٹریچر سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ خلیفہ اول کے وقت بھی یہ بات پیش ہوئی تھی اور اسی پر پیغامیوں سے جنگ شروع ہو گئی تھی کہ آیا انجمن اختلاف خلیفہ سے رکھ کر اپنا حکم جاری کر سکتی ہے یا خلیفہ روک سکتا ہے؟ اس پر تفرقہ ہوا۔اگر ان خیالات کے ساتھ کہ انجمن خلیفہ کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی اس کے ماتحت ہے اور اگر یہ کہنے سے کہ خلیفہ کثرت رائے کا پابند نہیں انجمن ٹوٹتی ہے تو اُسی دن ٹوٹ گئی تھی جب خلیفہ اول خلیفہ ہوئے تھے۔اور اگر ان خیالات کے اظہار سے ٹوٹتی ہے تو جس دن میں خلیفہ ہوا اُس دن ٹوٹ گئی اور دُنیا میں کوئی انجمن نہیں ہے۔یہ اُن کے اور ہمارے اختلاف کا بنیادی پتھر ہے کہ انجمن ہو خلیفہ نہ ہو، کثرتِ رائے سے فیصلہ ہو۔اگر یہی ہے تو انجمن ہے ہی نہیں ٹوٹ گئی ہے اُس وقت سے جب خلافت کا سلسلہ چلا۔اگر یہ خیالات نہ ہوتے تو نہ جھگڑا ہوتا نہ پیغامی ہوتے ، نہ مبائع ہوتے ایک ہی جماعت ہوتی۔دو گروہ جو نظر آ رہے ہیں وہ نبوت وغیرہ کے مسئلہ سے نہیں بلکہ یہی اختلاف ہے جو خلافت کے متعلق ہے۔اگر امیر کا تقرر اس کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ انجمن اور خلیفہ کا کیا تعلق ہے تو اس پر گفتگو ہی نہیں کی جاسکتی۔اسی وجہ سے ہم نے اپنے ہاتھوں کو جو کام کر رہے تھے کاٹ کر پھینک دیا کہ چونکہ تم خلافت کو انجمن کے ماتحت رکھنا چاہتے ہو اس لئے تم کو ہم نہیں رکھ سکتے۔پس یہ بنیادی پتھر ہے کہ