خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 552
خطابات شوری جلد اوّل ۵۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء لنگر خانہ بند کر دو، مدرسہ احمدیہ اُڑا دو، جلسہ سالانہ روک دو ورنہ ان کاموں کو چلاتے ہوئے ہمیں نظر نہیں آتا کہ بجٹ میں کمی کس طرح کی جاسکتی ہے مگر سب کمیٹی نے ایسا نہیں کیا اور یونہی کہہ دیا ہے کہ اتنے ہزار کم کر دو۔سب کمیٹی کی پیش کردہ مدات میں کمی نہیں کی جاسکتی پھر سب کمیٹی نے جن رقوم کو کم کرانا چاہا ہے اُن کے متعلق اتنا بھی غور نہیں کیا کہ انہیں کم کرایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً بجٹ کے صفحہ ۳۰ پر زکوۃ کی رقم ۷۵۰۰ درج ہے۔لوگ ایک دینی فرض کی ادائیگی کے لئے زکوۃ اور صدقہ دیتے ہیں اور اس طرح یہ رقم جمع ہوتی ہے۔اس میں کمی کرنے کے معنے یہ ہوئے کہ ایک شخص جو ز کوۃ کے متعلق اپنا فرض پورا کرتا ہوا زکوۃ کا روپیہ بھیجتا ہے اور خدا تعالیٰ جو زکوۃ کے متعلق فرماتا ہے کہ اسے غرباء اور محتاجوں پر خرچ کرو، اُس کے متعلق ہم کہتے ہیں اس میں سے ۲۵ فیصدی تو دوسرے کاموں کے لئے خود رکھ لو اور باقی ۷۵ فیصدی غرباء کے لئے خرچ کرو مگر ایسا کرنا خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔اُس کے فرشتے یہ رستہ روکے کھڑے ہیں اور ہم اس کو کسی اور جگہ نہیں خرچ کر سکتے اس وجہ سے اس رقم میں کوئی کمی نہیں ہو سکتی۔اس طرح یہ رقم اُس کمی سے نکل گئی جو سب کمیٹی نے تجویز کی ہے۔پھر صفحه ۴۰ پر ناظر اعلیٰ کے صیغہ میں ۶۷۴۰ کی رقم متفرق غیر معمولی ہے اور یہی صفحہ ہم پر بھی زیادتی دکھائی گئی ہے جسے سب کمیٹی کاٹ چکی ہے۔پس جو رقم پہلے ہی کٹ چکی ہے اس میں کمی نہیں ہو سکتی۔صفحہ ۴۴ پر دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے لئے ۱۲۰۰ ٹکٹ ڈاک کی رقم ہے۔اُسے کم کر دینے کے یہ معنی ہیں کہ جو لوگ خطوط لکھیں اُن کو جواب نہ دیا جائے حالانکہ خط و کتابت ہی تعلقات کے قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔ایسی اہم چیز کو کس طرح بند کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح مکان کا کرایہ ہے یہ مکان انجمن کا ہے مگر رہن رکھ کر دوبارہ کرایہ پر لیا ہوا ہے اس لئے اس کا کرایہ دینا پڑتا ہے۔پھر سفر خرچ سے یہ مراد ہے کہ جب میں کہیں جاتا ہوں تو عملہ ساتھ جاتا ہے۔اس میں تخفیف کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً میں دو تین ماہ کام کے لئے شملہ جاؤں یا صحت کی خاطر کسی پہاڑی پر جاؤں تو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کا عملہ یہاں بریکار بیٹھا تنخواہیں لیتا رہے۔میں جتنے خطوط کا جواب دے سکوں دوں اور باقی ڈاک انگیٹھی