خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 553

خطابات شوری جلد اوّل ۵۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء میں پھینک دوں۔مقبرہ بہشتی کے سائز میں ۹۱۹۷ کی جو رقم دکھائی گئی ہے اس میں ۶۰۰ے کی رقم ایسی ہے جو جمع ہو رہی ہے۔اس میں سے ۴۰۰۰ تو ریز رو فنڈ کا ہے اور ۳۶۰۰ محکمہ شکست وریخت کے لئے ہے۔اس میں کمی کے یہ معنے ہیں کہ نہ ریز رو فنڈ قائم ہو اور نہ عمارات کی غیر معمولی مرمت کے لئے کچھ پس انداز ہو۔پس اس میں کمی کرنی خرچ میں کمی نہیں بلکہ زیادتی ہے۔باقی رقم دفتر کے انتظامات کے متعلق ہے۔نظارت بیت المال کے سائز کی رقم ۸۲۰۴ ہے اس میں سے ۵۰۰۰ کی رقم بیرونی انجمنوں کو بطور امداد دی جاتی ہے اس میں کمی نہیں ہو سکتی۔اسی طرح لنگر اور جلسہ سالانہ کے اخراجات ہیں ان میں معمولی سی کمی کی جائے تو کی جائے مگر پھر بھی جو خرج عملاً ہوا سے ہمیں برداشت کرنا پڑے گا۔پھر تعلیمی وظائف کی رقم ہے ا ہے ان میں بھی کمی مشکل ہے کہ بیسیوں لڑکوں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔پھر دیگر صیغوں کے اخراجات ہیں جو پہلے ہی اتنے تھوڑے ہیں کہ بہت تھوڑی کمی اگر ہو تو ہو سکتی ہے۔غرض پورا زور لگا کر بھی سائر میں ۵-۶ ہزار سے زیادہ کی کمی نہیں ہوگی۔دراصل ہر چیز کو معقولیت کے ساتھ پیش کرنا چاہئے۔یہ کہنا معقولیت کے خلاف نہیں ہوگا کہ جب اخراجات پورے نہیں کئے جا سکتے تو جلسہ سالانہ بند کر دو۔اس کے متعلق میں یہ تو کہوں گا کہ یہ تجویز نقصان رساں ہے مگر ناممکن نہیں۔سب کمیٹی نے جو طریق اختیار کیا ہے اس میں معقولیت نہیں ہے۔ناظروں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں میرے فیصلوں اور مجلس مشاورت کے مشوروں سے ، وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے نہ ان فیصلوں کو بدل سکتے ہیں۔ایسی حالت میں جب انہیں یہ کہا جائے گا کہ اتنے خرچ میں سارے کام کرو تو ان کی وہی حالت ہو گی جو گز بھر کپڑا کی آٹھ ٹو پیاں بنانے والے کی ہوئی تھی کہ اُس نے ذرا ذراسی ٹوپیاں بنا دیں۔آمدنی کے سسٹم میں نقص بعض اصحاب نے جو یہ بحث کی ہے کہ آمد از روئے حساب جو بنتی ہے اس پر بجٹ کی بنیاد رکھی جائے۔اس سے میں پورے طور پر متفق نہیں مگر اس کے لئے بھی کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ پورے طور پر عدم اتفاق ظاہر کروں۔میری ہمیشہ سے یہ رائے ہے کہ نقص ، خرچ کے سسٹم میں نہیں بلکہ آمدنی کے