خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 551
خطابات شوری جلد اوّل ۵۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء نہیں سمجھ سکا کہ کوئی تخفیف جس کی معقولیت ثابت نہ کی جائے کیونکر کی جاسکتی ہے۔ایک آدمی جسے ہم دو آنے دیں اور کہیں پچاس آدمی کا کھانا تیار کراؤ وہ کس طرح تیار کرا سکتا ہے۔ہاں یا تو اسے یہ کہیں کہ دو آنے کا کھانا تیار کراؤ تو وہ جس قدر اتنے پیسوں میں کھانا مل سکے گا لے آئے گا۔یا اسے کہیں کہ پچاس آدمیوں کا کھانا با کفایت تیار کراؤ تب وہ جس قیمت میں با کفایت کھانا تیار کرا سکے گا کرا دے گا مگر یہ کہ دو آنے میں وہ پچاس آدمیوں کے لئے کھانا تیار کرا سکے، یہ ناممکن ہے۔اسی طرح جب شوریٰ میں نظارتوں کے کاموں کی تفصیلات پاس کی جاتی ہیں اور ناظر مجبور ہیں کہ جو کام ان کے سپرد کئے جائیں ان کو پورا کریں اور وہ ان میں کسی قسم کی کمی نہیں کر سکتے تو پھر یہ کہنا کہ نظارتوں کے اخراجات میں سے اتنے ہزار روپیہ کم کر دو، اس کا یہ مطلب ہے کہ نظارتوں کو کام کے لئے روپیہ تو نہ دیا جائے اور کہا جائے کہ فلاں فلاں کام ضرور کرو۔اخراجات میں اس طرح کمی کرنے پر ناظر کہہ دیں گے کہ اچھا لنگر خانہ بند کر دو، جلسہ سالانہ اُڑا دو، مہمانوں کو نہ کھانا دیا جائے ، نہ خرچ کرنا پڑے۔مگر کیا ہم ان کی اس تجویز کو قبول کر لیں گے؟ ایک مثال لیکن اگر ہم ایک طرف انہیں محکمے اڑانے کی اجازت نہ دیں اور دوسری طرف اخراجات کم کرنے پر مجبور کریں تو یہ ایسی ہی مثال ہوگی جو کہ ایک شخص کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا۔اُسے اور تو کوئی وجہ نہ ملی۔اس نے بیوی کو روٹی پکاتے دیکھا تو کہنے لگا روٹی تو تم ہاتھوں سے پکاتی ہو تمہاری گہنیاں کیوں ہلتی ہیں۔عورت تھی سمجھدار۔اُس نے دیکھا خواہ مخواہ لڑائی کے لئے بہانہ بنا رہا ہے اُس نے کہا بے شک مجھے گھر سے نکال دینا مگر خواہ مخواہ غصہ سے اپنا دل کیوں بُرا کرتے ہو۔آرام سے کھانا کھا لو پھر جو مرضی ہو کرنا۔وہ جب کھانا کھانے لگا تو عورت جوتی لے کر کھڑی ہوگئی کہ بتاؤ روٹی تو تم منہ سے کھاتے ہو تمہاری داڑھی کیوں ہلتی ہے۔سب کمیٹی نے جس طریق سے اخراجات میں کمی کی ہے، اس میں اسی بوڑھے کا سا جذبہ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔سب کمیٹی اگر دلیری سے یہ کہتی کہ ہمیں کام کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی جب تک بعض محکمے نہ اُڑا دیئے جائیں تو بے شک اس کی تجویز معقول ہوتی۔گو یہ الگ بات ہے کہ ہم سب کمیٹی کی اس تجویز کو منظور کرتے یا نہ کرتے مگر سب کمیٹی یہ تجویز پیش کر سکتی تھی کہ