خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 32
خطابات شوری جلد اوّل ۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء آتیں یا نہیں آ سکتیں۔اور جماعت کو اُس وقت بھی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ وہ انجمن سے باہر ہو۔(۳) بعض نے کہا ہے کہ امیر کا تقرر شرعی حکم ہے، اختیارات مقرر ہیں، شرعی اختیارات زیادہ محفوظ ہیں پریذیڈنٹوں کی نسبت کہ ان کے اختیارات مقرر نہیں۔(۴) یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے لئے تربیت کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ امیر مقرر ہوں تا کہ اطاعت کی روح پیدا ہوتی رہے۔(۵) خلیفہ کا قائم مقام ہو کہ اس کے توسط سے خلیفہ اختیارات کو برت سکے۔اس کے مقابلہ میں جو باتیں پیش ہوئی ہیں وہ یہ ہیں :- (۱) امیروں کے تقرر سے انجمن کا قیام ٹوٹ جائے گا حالانکہ انجمن کو مسیح موعود علیہ السلام نے بنایا ہے۔(۲) امیر کے تقرر سے ڈیموکریٹک رُوح پیدا ہوتی ہے کہ ہمارا بھی دخل ہو اس کا مطالبہ ہوگا اور نقصان پہنچے گا۔(۳) ہر جگہ امیر کے لئے قابل آدمی نہیں مل سکتے۔(۴) بہت سی جماعتیں چھوٹی ہیں وہاں امیر کا تقرر تمسخر ہوگا۔(۵) امیر کا تقرر لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اس لئے ممکن ہے ایسا امیر مقرر ہو کہ جماعت کو تباہ کردے۔(1) جن جماعتوں کا مرکز سے تعلق نہیں یہاں آتے نہیں، ان میں ممکن ہے کہ امیر کو مان کر اُس کے پیچھے چل پڑیں اور علیحدہ ہو جائیں۔(۷) یہ بھی ہے کہ امیر کا تعلق شرعی طور پر جائز نہیں۔امیر سیاست سے تعلق رکھتا ہے چونکہ اب سلطنت نہیں اس لئے امارت نہیں ہونی چاہئے۔ان کے علاوہ بعض نئی باتیں نکل پڑیں کہ کہا گیا کہ انجمن کا آئندہ ٹوٹنا الگ رہا اب ہی ٹوٹ گئی ،صدر انجمن کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔میرا کام چونکہ لوگوں کی ہدایت ہے اس لئے اصل مسئلہ سے بالا ہے۔آپ لوگوں کا کام یہ ہے کہ جس امر کے متعلق مشورہ لیں بیان کر دیں۔مگر میرا کام یہ ہے کہ دیکھوں آپ