خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 522
خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء غرض جہاں نوجوان کوئی اچھا کام کریں وہاں اُن پر اعتراض نہ کئے جائیں یا ان کے کام کو چُھپایا نہ جائے بلکہ اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے۔پھر میں دوستوں کو قادیان آتے رہنے کے لئے بھی نصیحت کرتا ہوں۔انہیں یہاں آتے رہنے کی کوشش کرنی چاہئے اور دینی کاموں میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں ضمنی طور پر یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ ہوزری کی سکیم سرکاری طور پر منظور ہو گئی ہے دوستوں کو چاہئے کہ اس کے حصے خریدیں۔اس کے متعلق میں وہ وعدہ بھی یاد دلاتا ہوں جو گزشتہ سال کی مجلس مشاورت میں کیا گیا تھا کہ اس کی بنی ہوئی جرابیں وغیرہ استعمال کی جائیں گی۔صرف شرط یہ ہے کہ پورے ناپ کی مل جائیں۔اس سال انشاء اللہ ہوزری کا کام شروع ہو جائے گا۔اس کے بعد میں ان الفاظ پر اس اجلاس کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بہت اہم کام ہمارے سپرد کیا ہے۔اس میں ذراسی سستی اور غفلت کرنے کی وجہ سے بھی ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہم نے ایک طرف اپنی اصلاح کرنی ہے دوسری طرف ہمسایہ اقوام کی اصلاح کرنی ہے۔پھر اس قسم کی داغ بیل ڈالنی ہے کہ آئندہ نسلیں محفوظ رہ سکیں۔ان ذمہ واریوں کو دیکھتے ہوئے ہماری مثال اُس ٹیٹری کی سی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب اُس سے اُلٹے سونے کی وجہ دریافت کی گئی تو اُس نے کہا اگر آسمان گر پڑے تو میں اپنے پاؤں پر اُسے ٹھہرالوں گی۔مگر خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا اُس کے تو کل پر ہم نے شروع کیا ہے۔ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں اس کا اہل بنائے ، ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کر دے۔ہمیں کام کرنے کی توفیق بخشے ، اپنی خاص برکات ہم پر نازل کرے، ہمارے نفوس کو اندھیروں سے دور اور ہمارے قلوب کو ظلمتوں سے پاک کر دے، ہمارے ضعف اور کمزوری کو دور کر دے، ہماری جہالت کو علم سے بدل دے، بُعد کو قرب سے بدل دے تا کہ ہم اس جہان میں اور اگلے جہان میں اس کے فضلوں کے وارث بن جائیں تاکہ ہم اور ہماری نسلیں اس کا قرب حاصل کر لیں اور اس دُنیا میں خدا کا فضل نازل ہوتا دیکھ لیں۔“ دُعا کے بعد حضور نے فرمایا۔میں نے ارادتاً ایک بات شوری کے موقع پر بیان نہیں کی ، میرا منشاء یہ تھا کہ مجلس