خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 521
خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء قربانیاں کرنی چاہئیں۔خواہ کسی موقع پر اپنے حق کو بھی قربان کرنا پڑے تو کر دینا چاہئے کیونکہ چھوٹی چیز کو بڑی کے لئے قربان کیا جاتا ہے۔پھر ہمیں اپنی قربانیوں کو مستقل بنانا چاہئے اور ایک رنگ میں قربانی ساری جماعت میں چلنی چاہئے۔اس وقت ہماری جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور اگر اِن سے انتہائی قربانی کا مطالبہ کریں تو وہ اس مطالبہ کو پورا کر دیں گے مگر ایسے بھی ہیں جو تکالیف میں سے گزرے ہیں لیکن اگر اور قربانی چاہیں تو نہیں کریں گے۔یہ دونوں قسم کے لوگ امراء میں بھی ہیں اور غرباء میں بھی۔میں اِن دونوں قسم کے لوگوں سے کہوں گا اپنے اعلیٰ مقصد کو مد نظر رکھیں اور خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ تمام دنیوی چیزیں ہمارے اعلیٰ مقصد کے مقابلہ میں بیچ ہیں اور ساری دُنیا کے مقاصد بیچ ہیں اور جب ہمارا مقصد اتنا اعلیٰ ہے تو ہمارے عہدے بھی بہت اعلیٰ ہیں۔پس ہم میں یہ احساس ہونا چاہئے کہ اگر ہمیں دُنیا کا بادشاہ بھی بنا دیا جائے تو ہم جماعت احمدیہ کا سیکرٹری بننا اس سے اعلیٰ سمجھیں گے۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نوجوانوں میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔اس وقت میں جہاں نو جوانوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ مذہب کی طرف توجہ کریں کیونکہ اس بارے میں بعض میں نقص اور کمزوری نظر آ رہی ہے وہاں میں اِس خوشی کا بھی اظہار کرتا ہوں کہ جماعت میں نئے آنے والوں میں بڑا اخلاص اور جوش ہے۔اسی طرح بعض نوجوان بھی ایسے ہیں جن میں بہت اخلاص ہے اور وہ جماعت کے لئے مفید ثابت ہو رہے ہیں مگر چند کے اخلاص کی وجہ سے جماعت پوری طرح ترقی نہیں کر سکتی۔کوشش یہ کرنی چاہئے کہ سب میں اخلاص پیدا ہو۔اس وقت جہاں میں ان کو نصیحت کرتا ہوں وہاں کارکنوں اور بڑی عمر کے لوگوں سے بھی یہ کہتا ہوں کہ نو جوانوں کی ہمت افزائی کریں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض جگہ ہمت افزائی کی بجائے نوجوانوں کے رستہ میں روک پیدا کی جاتی ہے۔اس میں بڑی عمر والوں کی کوئی ہتک نہیں اگر نو جوانوں کو کوئی کام کرنے کی توفیق مل جائے۔اس سے ہماری ہی عزت بڑھتی ہے کیونکہ وہ ہمارے ہی قائم مقام بننے والے ہیں۔پس ہماری اولادیں اگر ترقی کریں تو یہ کوئی مضر بات نہیں بلکہ ہمارے لئے اچھی ہے۔