خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 516

خطابات شوری جلد اوّل کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔“ ۵۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء یونیورسٹی کے قیام کی تجویز مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء کے تیسرے اور آخری دن کے اختتامی اجلاس میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کے بارہ میں سب کمیٹی نظارت تعلیم کی رپورٹ پیش ہوئی۔اس پر بحث کے بعد حضور نے فرمایا: - میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں۔اس منظوری سے یہ اعتراض دور ہو جاتا ہے کہ اس میں خلیفہ کو پابند کیا گیا ہے۔جب اس تجویز کی منظوری دینا خلیفہ کے اختیار میں ہے تو خلیفہ پر مجلس شوری کی طرف سے پابندی عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی طرف سے اس پر پابندی عائد ہوتی ہے۔قاضی محمد اسلم صاحب نے بعض باتیں بیان کی ہیں میں ان کے متعلق کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔کہا گیا ہے کہ ہمارے پاس صرف چند سکول ہیں ان کے لئے یونیورسٹی کی ضرورت نہیں ہے اور جو کالج ہے اُس کا کورس بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔باقی مبلغین کلاس کے چند طلباء رہ جاتے ہیں ان کے لئے اعلیٰ پیمانہ پر یونیورسٹی کی ضرورت نہیں ہے مگر میرے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم جو نام لیں اُس کے وہی مقاصد بھی قرار دیں جو دوسروں کے نزدیک اس نام سے وابستہ ہوں۔یعنی اگر ہم یونیورسٹی نام رکھیں تو ضروری نہیں کہ اگر کوئی یو نیورسٹی کالجوں اور سکولوں کا امتحان لیتی ہے تو ہم بھی یہی مقصد مد نظر رکھیں بلکہ میرے نزدیک یہ ہونا چاہئے کہ جس جماعت کی یونیورسٹی ہو وہ اس کے لئے طریق عمل خود مقرر کرے اور یہ قرار دے کہ اپنی جماعت کے افراد کی دماغی اور عملی نشو ونما اور ترقی کس طرح ہو۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دماغی کمزوری اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے اپنی تعلیم کا مقصد خود ایسا مقرر کرے جو اس کے لئے مفید نہ ہو۔اس قسم کی باتوں کے علاج کے لئے ہمیں ایک ایسے محکمہ کی ضرورت ہے کہ جو تمام تعلیمی اداروں سے خواہ وہ دینی تعلیم کے ہوں یا ڈ نیوی تعلیم کے ایسے طالب علم پیدا کرے جو باوجود تعلیمی اختلاف کے مقصد اور مدعا میں اتحادر رکھتے ہوں۔اس محکمہ کا یہی کام ہوگا۔انتظام اور کورس کے متعلق ہو سکتا ہے کہ اس میں ہم تغییر نہ کر سکیں اور وہ سرکاری طور پر ہی مقرر کردہ ہو لیکن اگر کورس کا کوئی حصہ ایسا ہو جو