خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 517
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اسلام کے متعلق ہمارے منشاء کے خلاف ہو تو ہمارا یہ کام ہو گا کہ ہم اس کا توڑ تیار کریں۔اور اس رو کو روکیں جو غلط اور مضر خیالات پیدا کرنے والی ہو یعنی ایسے خیالات کا ازالہ کرتے رہیں مگر اس کے لئے ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر سے یہ توقع رکھنا کہ معلوم کرتا رہے کہ یونیورسٹیاں کیا پڑھاتی ہیں اور ان کے کیا بد اثرات ہیں اور انہیں کس طرح دور کیا جا سکتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا۔اس کے لئے الگ محکمہ کی ضرورت ہے۔اس محکمہ کا نام یونیورسٹی رکھ لو یا کچھ اور رکھ لو۔ہمارے نزدیک اس کا مقصد یہی ہے جو دوسری یو نیورسٹیوں کا نہیں ہے۔دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ جن طلباء کو یو نیورسٹی سے فائدہ ہوسکتا ہے اُن کی تعداد چونکہ تھوڑی ہے اس لئے اتنے بڑے انتظام کی ضرورت نہیں۔جامعہ احمد یہ میں جو طلباء تیار کئے جاتے ہیں ان کی جماعت کا نام مبلغین کلاس رکھنے سے ان کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔دراصل ان لڑکوں نے آئندہ جماعت کے خیالات کو نشو ونماء دینا ہے۔ان کے فتوؤں اور ان کے فیصلوں پر جماعت نے چلنا ہے۔اگر ایسا ایک شخص بھی نکلتا ہے اور پچاس نہیں ہزار آدمی بیٹھ کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کی صحیح اور مکمل تربیت ہو، اس کے خیالات درست ہوں تو ان پچاس ہزار آدمیوں کی کوشش ضائع نہ جائے گی بلکہ ان کے ذریعہ بہت ضروری کام ہوگا کیونکہ انہی طالب علموں نے آنے والے زمانہ میں جماعت کو سنبھالنا ہے۔اگر ان کے خیالات غلط ہوں گے، ان کی تربیت ناقص ہوگی تو وہ جماعت کو اپنے غلط خیالات کے مطابق ڈھال لیں گے اور آئندہ جب کبھی یو نیورسٹی بنے گی تو وہ انہی غلط خیالات کے ماتحت بنے گی۔پس اس وقت یو نیورسٹی نہ بنانے کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ یو نیورسٹی بنانے کا کام ہم اُن لوگوں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے ہماری سستی اور غفلت کی وجہ سے ہمارے نقطہ نگاہ کو ہی بدل دیا ہوگا۔بعض نے کہا ہے کہ اس یو نیورسٹی سے دُنیاوی کاروبار میں کوئی فائدہ نہ ہوگا مگر ہماری غرض ہی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم جماعت کی تعلیم کو صحیح طور پر پھیلانے والے لوگ پیدا کریں۔پس یو نیورسٹی سے ہماری یہ غرض نہیں کہ اس کی سند حکومت کے ہاں منظور کی جائے بلکہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ سند دے اِن کے متعلق جماعت کو اطمینان ہو جائے کہ جماعت کی تربیت کے لئے صحیح قابلیت لے کر نکلے ہیں۔یہ لوگ بھی غلطی کر سکتے ہیں مگر بہت سی