خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 515
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء پھر لڑکوں میں آوارگی کی وجہ بے کاری اور کوئی شغل نہ ہونا بھی ہوتی ہے لیکن کوریں بنا کر جب انہیں ایک کام میں مشغول کو دیا جائے گا تو وہ آوارگی سے بچ جائیں گے اور اچھے کاموں میں انہیں لگا کر ان کے اوقات کو مفید بنایا جاسکتا ہے۔اور جب وہ نیکی کا کام کریں گے تو ان کے دل میں اُمنگ اور خوشی پیدا ہوگی۔نیکی کے کاموں کی طرف توجہ ہوگی۔ان کے کرنے میں فخر اور خوشی کی روح پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح دینی کاموں میں بھی ان سے مدد لی جا سکتی ہے اور ان کی حیثیت کے مطابق ان کو قومی کاموں میں حصہ لینے کا موقع دے کر ان میں قومی کام کرنے کی روح پیدا کی جاسکتی ہے۔جس کا اثر ان کی آئندہ زندگی پر پڑے گا۔روحانیت ہر شخص کو ہی خود بخود حاصل نہیں ہو جاتی بلکہ بہت لوگوں کو تربیت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔دماغ میں شیطانی اور روحانی جنگ جاری رہتی ہے۔آخر میں جس کا غلبہ ہو جائے انسان ویسا ہی بن جاتا ہے لیکن ایک حصہ تربیت کے متعلق ہے۔اس کے ذریعہ انسان شیطانی غلبہ سے بچ سکتا ہے۔پھر عارضی ضرورتوں کی وجہ سے بھی اس قسم کے انتظام کی ضرورت ہے۔بدقسمتی سے ملک میں یہ احساس پیدا کیا جا رہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔یہ روح نہایت گندی ہے مگر پیدا ہو گئی ہے۔میں گزشتہ سال جب سیالکوٹ گیا تو وہاں ایک جلسہ میں ہم پر پتھر برسائے گئے اور سوا گھنٹہ تک برسائے گئے۔ہماری جماعت نے ان پتھروں کا کامیاب مقابلہ کیا تاہم معلوم ہوا کہ ابھی اور زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔اگر مکمل تربیت ہو تو ہماری جماعت کے لوگ زیادہ عمدگی سے کام کر سکتے ہیں۔ایسے حالات میں چونکہ مخالف اس طرح بھی ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اس لئے انتظام کی ضرورت ہے اور ہم خدا کے فضل سے ایسے منظم والنٹیر کور بنا سکتے ہیں کہ ہم سے سو گنی تعدا د ر کھنے والے لوگ بھی ویسے نہیں بنا سکتے۔پس ہمیں اس قسم کا انتظام کرنا چاہئے اور یہی ضروری نہیں کہ اپنے جلسوں کا ہی انتظام کیا جائے بلکہ ایک آریہ بھی اگر تقریر کر رہا ہو اور کوئی اس میں دخل انداز ہو تو کور کے والنٹیر ز کا فرض ہوگا کہ اسے روکیں۔“ " یہ ضروری باتیں ہیں۔باقی تفاصیل بعد غور کے کام کرنے والے طے کر سکتے ہیں۔احباب کا فرض ہے کہ اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر تحریک کریں اور جب اعلان ہو تو اسے