خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 496
خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء (الف) ضروری پارچات پوشیدنی مطابق حیثیت موصی۔(ب) گھر کے عام استعمال کے برتن، بستر ، چار پائیاں اور دیگر ضروری سامانِ رہائش جو عام طور پر زیر استعمال رہتا ہو مطابق حیثیت موصی۔( ج ) سامان خور و نوش جو برائے استعمال خاندان گھر میں موجود ہو۔(1) پیشہ ور موصی کی صورت میں اُس کے پیشہ کے اوزار۔(ه) وہ مستثنیات جو شریعت اسلامیہ کی رُو سے تعریف جائداد متوفی میں شامل نہیں سمجھی جاتیں مثلاً اخراجات تجہیز و تکفین اور اس قدر حصہ جائداد جو متوفی کے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے ضروری ہو۔“ جائداد کی تعریف آپ کے سامنے بیان کر دی گئی ہے۔ایک بات اس میں تشریح طلب تھی۔اس کی تشریح میں نے کرالی ہے یعنی جس کے پاس صرف یہ چیزیں ہوں ان کو جائداد نہ سمجھا جائے اور جن کے پاس اور اشیاء بھی ہوں ان میں سے اُن اشیاء کو منہا کر کے باقی کو جائداد سمجھا جائے گا۔“ حضور کی اس ابتدائی تقریر کے بعد چندا حباب نے جائداد کے بارہ میں اپنی آراء پیش کیں۔ان کے بعد حضور نے فرمایا :- ”میرے نزدیک اس سوال کے متعلق کافی بحث ہو چکی ہے اور ابھی بہت سے مسائل ہیں جن پر ہمیں غور کرنا ہے اس لئے چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق دوستوں کی رائے لے لوں مگر میں ایک بات کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جس سے شاید غلط فہمی ہوئی ہو۔ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے میر صاحب کے منہ سے وصیت کا لفظ نکلا ہے مگر مجھے یاد ہے کہ وہ آیت ترکہ کے متعلق ہے۔میر صاحب کے بیان کے مطابق یہ بات بن جاتی ہے کہ اگر وصیت کرنے والے کی جائداد میں سے وصیت سے کچھ مستثنے کیا جائے تو یہ اس آیت کے خلاف ہے مگر یہ آیت ورثاء کے متعلق ہے۔چاہے اس کا نام وصیت رکھیں اور چاہے ترکہ دونوں صورتوں میں آیت یہ کہتی ہے کہ لِلرِّجَالِ نَصِيبُ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الوالدين والأقربُونَ مِمَّا قَلٌ مِنْهُ أَوْكَثُرَ، نَصِيبًا مفروضات یعنی کوئی شخص خواہ تھوڑی جائداد چھوڑے یا زیادہ اس کے بیٹے اور بیٹیاں