خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 497

خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اس کے وارث ہیں۔پس اس آیت کا مسئلہ زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر اس کا نام وصیت رکھ لیں تو کیا ایک شخص بیوی کو اس کا حصہ دے جائے تو مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کے قابل ہو جائے گا؟ خواہ وہ دس ہزار روپیہ بھی بیوی کو دے جائے تو بھی مقبرہ بہشتی میں دفن نہیں ہو سکے گا۔اس وقت ہمارے مدنظر وصیت سے وہ خاص امر مراد ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تجویز کیا ہے۔قرآن کریم کی اس آیت میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ وصیت جو دین کے لئے کی جائے وہ کتنے سال کی ہو بلکہ یہاں یہ ذکر ہے کہ ایک شخص جو کچھ چھوڑ جائے وہ اُس کے وارثوں کا ہونا چاہئے خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نئی بات پیدا کی ہے اور وہ یہ کہ جو احمدی تقویٰ و طہارت اختیار کرے، اسلام کے احکام پر چلے اور اپنے مال کی دین کے لئے اتنی قربانی کرے وہ مقبرہ بہشتی میں داخل ہو گا۔یہ صحیح ہے کہ ہر مومن جنت میں جائے گا مگر ہر ایک مومن کو خدا تعالیٰ پہلے نہیں بتا دیتا کہ وہ جنت میں جائے گا۔البتہ خاص مومنوں کو الہام اور رؤیا سے بتا دیا جاتا ہے۔اس زمانہ میں مادیت کی ترقی کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہم نے جو مومنوں کے لئے وعدہ کیا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔اگر ایک مومن دین کے لئے اتنی قربانی کرے تو اسے ہم قبل از وقت خبر دیتے ہیں کہ وہ جنتی ہو گیا تو اسلام کی تائید اور مدد کرنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ نے قومی الہام کے ذریعہ بتا دیا کہ اگر وہ ان امور پر عمل کریں تو اُنہیں اِسی دُنیا میں سنا دو کہ وہ جنت میں جائیں گے۔یہ اس وصیت کا مفہوم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے اور یہ عام وصیت کے مفہوم سے علیحدہ ہے اور اس کے لئے احکام بھی علیحدہ ہیں۔اس کے متعلق ہم نے جس بات پر فیصلہ کی بنیاد رکھنی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقوال ہیں اور اگر آپ کے کلام سے بالنص کوئی مفہوم معلوم نہ ہو تو یہ دیکھنا ہو گا کہ استنباط کیا ہوتا ہے اور اگر استنباط سے بھی بات معلوم نہ ہو تو پھر اسلام کی عام روح کے ماتحت فیصلہ کریں گے اور اس پر عمل کریں گے۔“ - وصیت کرنے والے کی جائداد سب کمیٹی کی تجویز کردہ مستثنیات کے بارہ میں چند احباب نے ترامیم پیش کیں۔ان کے متعلق آراء