خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 495

خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء کمیٹیاں نہیں بنائی گئی تھیں اور جن کے متعلق براہ راست دوستوں سے مشورہ لینا تھا۔میں پہلے نمبر کی نسبت جس کے لئے پہلے سب کمیٹی بیٹھی تھی ، احباب سے مشورہ چاہتا ہوں۔مولوی سید سرور شاہ صاحب جن کے سپر دسب کمیٹی کا کام تھا سب کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں۔“ مقبرہ بہشتی کے متعلق رپورٹ اور فیصلہ حسب ارشا سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کی رپورٹ پیش ہوئی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - ۱۹۲۶ء کی مجلس مشاورت میں وصیت کے متعلق ایک سوال احباب کے سامنے پیش ہوا تھا اور وہ یہ کہ وصیت کے مفہوم کے نیچے کس قسم کی جائداد آتی ہے اور کس قسم کی چیزیں جائداد نہ سمجھی جائیں۔اس کے متعلق میں نے اعلان کیا تھا کہ اس کے لئے ایک کمیٹی بنا کر غور کرایا جائے گا۔چنانچہ اس سال ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔اس کمیٹی کی رپورٹ آپ کے سامنے پڑھی گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے سیکرٹری صاحب پوری طرح تیار نہ تھے اس لئے انہوں نے رپورٹ کو ایسے رنگ میں پڑھا ہے کہ مجھے خطرہ ہے احباب سمجھے نہ ہوں گے۔اس لئے میں بتا دیتا ہوں کہ سب کمیٹی اس غرض کے لئے بنائی گئی تھی کہ وہ یہ بتائے کہ جائداد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کیا مراد ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ جس کی کوئی جائداد نہ ہو وہ آمد سے وصیت کرے تو اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مراد عرف عام والی جائداد نہیں ہو سکتی جو مترو کہ ہو اور جس کی خواہ ایک پیسہ ہی قیمت ہو۔اس کمیٹی کی یہ رائے ہے کہ : - ”سب کمیٹی کی رائے میں جائداد کا عام مفہوم تو وسیع ہے جس میں ہر وہ شے داخل ہے جس پر کسی شخص کو حقوق مالکانہ یا حقوق استعمال حاصل ہوں یا اُس پر اسے کامل تصرف ہو۔لیکن رسالہ الوصیت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الفاظ جائداد و ترکہ کو کسی قدر محدود معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔اس لئے اس مفہوم کے ما تحت سب کمیٹی کی رائے میں جائداد کی مندرجہ ذیل اقسام اغراض وصیت کے ماتحت لفظ جائداد کے مفہوم سے مستثنے شمار ہونی چاہئیں۔