خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 385

خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کر بھیج دیتے ہیں جو انہیں جمع کیا کرایا مل جاتا ہے۔یہ نہیں کہ سب سے چندہ کی وصولی کا کوئی طریق اختیار کریں۔ان کے متعلق رجسٹر بنوائیں جن میں ہر ایک کے چندہ کی وصولی اور بقایا درج ہو۔میرے پاس بھی کئی جگہ سے اس قسم کی رپورٹیں آئی ہیں۔یا محصل اتنی قابلیت کے نہیں کہ اس طرح کام کر سکیں یا صیغہ ان سے کام نہیں لے سکتا۔بہر حال محصلین کے متعلق رپورٹیں اسی قسم کی آئی ہیں حالانکہ محصل کا کام یہ ہے کہ ہر جماعت میں چندہ کی ادائیگی کے متعلق یکسانیت پیدا کرے۔جو لوگ چندہ دینے میں سُست ہوں اُن کی شستی دور کرنے کا انتظام کرے۔جن کے ذمے بقائے ہوں ان سے بقائے وصول کرے ورنہ جمع شده رو پید تو ہر جگہ کے کارکن خود بھی بھیج سکتے ہیں۔اب کمیشن کی تجویز یہ ہے کہ محصلین کے حلقے مقرر ہوں اُن ہی میں وہ رہیں اور دورے کر کے چندہ کی تشخیص اور خاص حالتوں میں وصولی کا کام کریں۔میرے نزدیک کمیشن کی رپورٹ بہت مفید ہے۔ممکن ہے دفتر والے اس پر عمل کرتے ہوئے ہچکچائیں مگر اسے ہم چھوڑ نہیں سکتے۔میں اس کے متعلق فیصلہ کرتا ہوں کہ صیغہ بیت المال فوراً اس کے مطابق کام کرانا شروع کرا دے۔آٹھویں سفارش محتسب کا کام سمجھ میں نہیں آیا اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔میں اس سفارش کو تسلیم کرتا ہوا اِس صیغہ کو اُڑا دیتا ہوں۔مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ جو فیصلہ کام اس صیغہ کے کرنے کا تھا وہ نہایت ضروری اور اسلامی ہے۔محتسب کا کام اسلامی زمانہ میں نہایت اہم اور ضروری سمجھا گیا ہے جو یہ ہوتا تھا کہ کسی کے کیرکٹر کے متعلق جو افواہ ہوتی یہ محکمہ اُس کی نگرانی کرتا اور ایسے شخص کے حالات جمع رکھتا، پھر جب کسی کے متعلق کوئی مقدمہ ہوتا تو اس کے تفصیلی حالات محتسب سے پوچھے جاتے۔اسی طرح کسی مقدمہ میں جو گواہ پیش ہوتے اُن کے متعلق محتسب بتا تا کہ فلاں گواہ کے خلاف یہ یہ باتیں ہیں۔آگے قاضی اُن کی تحقیق کر کے فیصلہ کرتا کہ اس گواہ کی گواہی قابل قبول ہے یا نہیں۔اسلامی حکومت میں ہر گواہ کے متعلق پہلے یہ بحث ہوتی کہ یہ شاہد عادل ہے یا نہیں اور اس بحث میں محتسب مدد دیتا۔اسی طرح اگر کسی پر منافقت اور قومی غداری کا الزام لگے تو اُسے پہلے دن ہی گرفتار