خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 384
خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء تیار کیا جاتا ہے، معمولی بات نہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک لمبے عرصہ میں اس کام میں سے طلباء کو گزاریں تا کہ ان کے ذرہ ذرہ میں دینی باتیں داخل ہو جائیں اور یہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ وہ ایسے ماحول میں کافی عرصہ تک رہیں جس میں دینی باتیں اور دینی اشغال ہوں۔پھر انٹرنس تک پڑھنے کے بعد طالب علم بہت کم مل سکیں گے کیونکہ انٹرنس کے بعد طالب علموں کو گریجویٹ بنا یا ڈاکٹری وغیرہ پاس کرنا زیادہ قریب نظر آتا ہے۔اُس وقت وہ سمجھتے ہیں کہ دینیات کی طرف وہ نہیں جا سکتے۔تو طالب علموں کے لحاظ سے بھی اس میں رکھتیں ہیں اور ماحول کے لحاظ سے بھی یہی ضروری سمجھا گیا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک اس میں رہیں ورنہ اس کام کے ماہر نہ بنیں گے۔پس میں اس تجویز کو قبول کرنے کے لئے سر دست تیار نہیں ہوں۔چھٹی سفارش مختلف محکموں کے کے محرروں کے کام کے متعلق ایک کمیٹی مقرر کی جائے جو ان کے کام کے معائنہ کے بعد ان کے لئے ایک ہی قسم کا دستور العمل تجویز کرے۔فیصلہ میرے نزدیک یہ مناسب ہے ایسی کمیٹی مقرر ہونی چاہئے۔اس کمیٹی کے لئے میں ان اصحاب کو مقرر کرتا ہوں۔(۱) بابوعبدالحمید صاحب شملہ۔پریذیڈنٹ (۲) شیخ ضیاء الحق صاحب لاہور (۳) با بومحمد امیر صاحب لاہور۔یہ کلرکوں کے کام کا معائنہ کر کے دستور العمل پیش کریں۔با بوضیاء الحق صاحب کمیشن کی سفارش کی مفصل نقل لے لیں تا کہ انہیں معلوم ہو سکے کہ کمیشن اس کمیٹی سے کیا چاہتا ہے۔ساتویں سفارش محصلین کے جو علاقہ جات مقرر ہیں ان میں ان کا ایک ایک ہیڈ کوارٹر مقرر کیا جائے۔جہاں وہ مستقل طور پر رہیں اور وہاں سے انہی علاقوں میں دورہ کر کے تمام سال تشخیص چندہ کا کام کرتے رہیں اور صرف اشد ضرورت کے موقع پر مرکز کے خاص آرڈر سے چندہ کی وصولی کا کام کریں اور مختلف نقشہ جات صدر میں بھیجتے رہیں۔کمیشن کے سامنے جو شہادتیں پیش ہوئیں اُن سے اس نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ محصلین صحیح طور پر کام نہیں کرتے۔جہاں جاتے ہیں وہاں سے صرف وہ روپیہ لے فیصلہ