خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 386

خطابات شوری جلد اوّل کام ۳۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء نہیں کیا جاسکتا۔اس کے پہلے حالات کو دیکھنا ضروری ہوگا اور ایسے حالات مہیا کرنا محتسب کا کام ہوتا تھا۔وہ ہر ایک کے حالات جمع رکھتا۔کسی کے سابقہ حالات کا تجسس کرنا قاضی کا نہ تھا اور نہ وہ کر سکتا تھا۔تو صیغہ احتساب کے ذمے بہت سے اہم کام ہوتے ، وہ عدالتوں کی مدد کرتا یا ایسے مقدمات چلاتا جو لا وارث ہوتے۔گویا یہ صیغہ نگرانی رکھتا کہ جو حلقہ اس کے سپرد ہے اُس کی کیا حالت ہے، لوگوں کے اخلاق کیسے ہیں؟ کون کس قسم کا اور کس رنگ کا آدمی ہے؟ گویا محکمہ قضا اور امور عامہ کی مدد کرنا اس کا کام تھا۔مگر کہنا پڑتا ہے کہ اس صیغہ سے اِس طرح کام نہیں لیا گیا جو مفید ہوتا اور چونکہ ایسا کام نہیں لیا گیا یا اس صیغہ نے دیا نہیں اس لئے میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں۔ورنہ اس کام کی ضرورت یقیناً ہے اور مقامی کمیٹی سے امید کرتا ہوں کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ میں لے گی۔نویں سفارش تمام محکمہ جات کے لئے ایک یا دو سپرنٹنڈنٹ مقرر کئے جائیں جو فیصلہ ناظروں کی غیر حاضری میں معمولی خط و کتابت کا جواب دیتے رہیں اور اہم اور ضروری کام ناظروں کی واپسی پر پیش کیا کریں۔میں اس سے متفق ہوں کہ سپرنٹنڈنٹ مقرر کئے جائیں۔ایسا تقرر اس لحاظ سے بھی مفید ہو گا کہ ناظروں اور کلرکوں کے درمیان کوئی اور واسطہ ہو۔اب کلرک براہ راست ناظروں کے ماتحت ہیں اور اس سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔اگر سپرنٹنڈنٹ ہوں گے جو کلرکوں کے کام کی نگرانی کریں گے اور ان کے کام پر رپورٹ کریں گے تو ناظروں کے متعلق شکایات کم پیدا ہوں گی۔کمیشن نے دو کی تجویز کی ہے مگر شاید اب دو کے لئے مالی لحاظ سے گنجائش نہ ہو۔ایک کے لئے بجٹ میں گنجائش رکھی جائے مگر چونکہ اس کے لئے دفاتر کا ایک جگہ ہونا ضروری ہے۔میں تجویز منظور کرتا ہوں اور اُس وقت تک کہ دفاتر اکٹھے ہوں اسے ملتوی رکھنے کی ہدایت دیتا ہوں۔دفاتر کو جلد ا کٹھے کرنے کی کوشش کی جائے۔دسویں سفارش مبلغین قادیان میں صرف دو یا تین رکھے جائیں۔جو عام طور پر درس و تدریس کا کام کرتے رہیں اور خاص ضرورت کے وقت باہر بھیجے جائیں۔باقی تمام مبلغین کے ہیڈ کوارٹرز مفصلات میں ہوں اور ان کے حلقے مقرر کئے جائیں۔جہاں تمام سال دورہ کر کے تبلیغ کرتے رہیں۔