خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 383
خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء پھر ناظر اعلی کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ اگر کوئی ناظر غلطی کرتا ہے تو ناظر اعلیٰ کو اُس کے متعلق رپورٹ کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔یہ کام بہر حال کسی سینئر ممبر کے ہی سپرد کرنا پڑے گا۔پانچویں سفارش کیٹن کی پانچویں سفارش یہ ہے۔ایک کمیٹی مقرر کی جائے جو مدرسہ احمدیہ کے جملہ حالات کا مطالعہ کر کے اس امر کے متعلق رپورٹ کرے کہ آیا موجودہ صورت قائم رہے یا اس میں ترمیم کی جائے ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ انٹرنس پاس طلباء لئے جائیں اور اُن کو دینی تعلیم دی جائے اور اتنا زیادہ وقت نہ صرف ہو فیصلہ جتنا اب ہوتا ہے؟ ایسی کمیٹیاں اس سکول کے متعلق تین دفعہ بٹھائی گئی ہیں۔دو دفعہ ان کمیٹیوں کا پریزیڈنٹ میں خود تھا۔اگر اس کے متعلق کمیشن والے صیغہ کے افسروں سے دریافت کر لیتے تو بات حل ہو جاتی۔میں نے اس بارے میں غور کر کے دیکھ لیا ہے کہ انٹرنس پاس طلباء میسر نہیں آسکتے۔اسی سلسلہ میں ایک دفعہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے تجویز پیش کی تھی کہ اگر ہائی سکول میرے سپرد کر دیا جائے تو دس سال کی بجائے گیارہ سال میں میں طلباء کو عربی کی تعلیم دلا سکوں گا اور انٹرنس تک انگریزی کی تعلیم بھی۔میں نے انہیں کہا آپ کے دو بھانجے ہائی سکول میں پڑھتے ہیں۔آپ انہیں مولوی بھی بنا دیں اور انٹرنس بھی پاس کروایں تو آپ کی اس تجویز پر غور کر لیا جائے گا مگر وہ ان کے متعلق توجہ نہ کر سکے۔ان میں سے ایک نے تو تعلیم بیچ میں ہی چھوڑ دی اور ایک نے ایک سال ڈیٹین (DETAIN) ہونے کے بعد اب کے امتحان دیا ہے۔تو تجویز پیش کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔میں خود اس سکول میں کام کرتا رہا ہوں اس لئے مشکلات سے ذاتی طور پر واقف ہوں۔دراصل طلباء کو جس کام کے لئے اس سکول میں تیار کیا جاتا ہے اس کے لحاظ سے جلد جلد کتابیں پڑھا دینے کی اتنی ضرورت نہیں جتنی دینی ماحول میں رکھ کر انہیں سمونے اور تربیت کرنے کی ہے اور انسانی تربیت کا تعلق وقت سے بھی ہوتا ہے۔اگر طلباء کو جلد جلد کتابیں پڑھا دی جائیں تو وہ علم میں سے گزر تو جائیں گے مگر علم ان میں راسخ نہ ہوگا کیونکہ انسانی فطرت ایسی ہے کہ اس میں جو چیز آہستگی سے داخل ہوتی ہے وہی دیر پا ہوتی ہے۔جماعت کی مذہبی نگرانی جس کے لئے مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو