خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 369

خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء مگر یہ طریق دین اور تقویٰ اور خشیت اللہ کے لحاظ سے سخت مضر ہے اس لئے میں اسے مٹاتا ہوں۔یعنی سوال کرنے کا جو طریق اب تک رہا ہے اسے بند کرتا ہوں مگر سوال کرنے کی غرض اور فائدہ کو نہیں مٹاتا۔سوال کرنے کا بہت بڑا فائدہ بھی ہوتا ہے اور اگر دوسرے لوگ کام کرنے والوں کو اُن کے کام کے متعلق مدد دیں تو انہیں بہت کچھ سہارا مل جاتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ کارکنوں کی اس طرح مدد کی جائے مگر یہاں شوری میں اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہر ایک کو مشورہ دینے کا وقت مل سکے۔اس لئے کوئی ایسا طریق ہونا چاہئے کہ جو دوست کارکنوں کے کام میں امداد کرنا اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہیں وہ فائدہ پہنچاسکیں۔ایک طالبعلم کی تجویز بعض اوقات ایک معمولی آدمی کے منہ سے نکلی ہوئی بات بھی بہت مفید ہو سکتی ہے۔پچھلے دنوں جب مالی حالت کی اصلاح کا سوال پیش تھا تو مدرسہ ہائی کے ایک طالب علم نے مجھے لکھا کہ ہر سال سالانہ جلسہ کے موقع پر کئی سو روپے کے تنور خریدے جاتے ہیں اور پھر ان کی کوئی حفاظت نہیں کی جاتی اور وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔اگر اس جگہ کو جہاں تنور لگائے جاتے ہیں محفوظ کر لیا جائے تو کئی سو روپیہ کی بچت ہوسکتی ہے۔ایک طالبعلم سے یہ بات سن کر مجھے بہت تعجب ہوا اور میں نے خیال کیا کہ غلط ہی ہو گی لیکن میں نے اطمینان کے لئے عمارت کے فن کے ماہر کے پاس وہ کاغذ بھیج کر رائے طلب کی تو انہوں نے لکھا ٹھیک ہے اور اس طرح بچت ہوسکتی ہے۔اب اگر اس زمین کا جہاں تنور لگائے جاتے ہیں فرض کر لیں کہ ایک روپیہ ماہوار کے حساب سے ۱۲ روپے کرایہ دینا پڑے تو بھی کئی سو کا فائدہ ہوسکتا ہے۔تجاویز کب پیش کی جائیں پس تجویزیں بڑے تو الگ رہے بعض اوقات بچوں کو بھی اچھی سُوجھ جاتی ہے۔اس لئے میں نے آئندہ کے لئے یہ رکھا ہے کہ بجائے سوال کے رنگ میں کوئی بات پیش کرنے کے تجویز کے طور پر پیش کی جائے اور وہ بھی شوری کے ایام میں نہیں بلکہ دورانِ سال میں جب بھی کوئی بات معلوم ہوا سے پیش کر دینا چاہئے۔اس قسم کی تجاویز اس کمیشن کے پاس بھیج دی جایا کریں گی جو ہر سال یا دوسرے سال سلسلہ کے کاموں کی پڑتال کے لئے مقرر کیا جایا کرے گا۔پھر جن