خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 370

خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء تجاویز کو کمیشن منظور کر لے گا اُن کے متعلق میں فیصلہ کر دیا کروں گا اور جنہیں کمیشن رد کر دے گا اور میرے نزدیک بھی مفید نہ ہوں گی اُنہیں میں رد کر دوں گا اور اگر میرے نزدیک مفید ہوئیں تو منظور کر لی جائیں گی۔پس موجودہ طریق سے سوال کرنے کی غرض چونکہ محض چھیڑ خانی ہوتی ہے اور اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے اس لئے اب کے تو میں اجازت دے دوں گا لیکن آئندہ اس طرح سوالات کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔آئندہ سوال کے طور پر نہیں بلکہ تجویز کے طور پر بات پیش کرنی چاہئے کہ فلاں محکمہ میں یہ غلطی ہو رہی ہے، اُس کی اس طرح اصلاح ہونی چاہئے۔یعنی غلطی اور نقص بھی بیان کیا جائے اور اس کی اصلاح کی صورت بھی پیش کی جائے۔اس پر کمیشن غور کر لے گا اور پھر میں فیصلہ کر دوں گا۔دوسرا امر تجاویز کے متعلق ہے۔اس کے متعلق بھی غور کر کے دیکھا گیا ہے کہ یہ ایک تکلیف دہ سوال بنتا جا رہا ہے۔مجھے کوئی ایسا آدمی معلوم نہیں جس کے خیال میں کوئی نہ کوئی اچھی تجویز نہ آتی ہو لیکن اگر ہر شخص جو تجویز پیش کرے وہ لے لی جائے تو ہر سال ایسی تجاویز کا ڈھیر لگ جایا کرے اور جس کی تجویز رڈ کی جائے وہ سمجھتا ہے سارا کام ہی فضول ہو رہا ہے۔چونکہ ایسے امور کے متعلق جماعت کی تربیت ابھی نہیں ہوئی اس لئے ہر شخص جس کے خیال میں کوئی تجویز آئے وہ سمجھتا ہے اس پر ضرور مجلس مشاورت میں غور کرنا چاہئے اور نہ صرف غور ہونا چاہئے بلکہ اس پر عمل بھی کرنا چاہئے۔حالانکہ ایسی تجاویز پیش کرنا جن پر حالات اور واقعات کا لحاظ کرتے ہوئے عمل ہو سکے بہت مشکل کام ہے۔گورنمنٹوں میں دیر دیر تک کوئی پرائیوٹ بل پیش نہیں ہوتا بلکہ سرکاری کارگن ہی اکثر بل پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کی نسبت حالات سے زیادہ واقف ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں عام طور پر بیرونی احباب ہی تجاویز پیش کرتے ہیں حالانکہ ان تجاویز میں سے بیسیوں ایسی ہوتی ہیں جو ان کے پیش کرنے سے بہت پہلے ہمارے دماغ میں آئی ہوتی ہیں مگر مشکلات کی وجہ سے ان پر عمل نہیں کر سکتے۔مثلاً ان پر عمل کرنے کے لئے سرمایہ نہیں ہوتا اور جاری شدہ کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہوتی ہیں اس لئے کوئی تجویز زیر عمل نہیں لائی جاسکتی۔مشورہ لینے کا حق علاوہ ازیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مشورہ لینے کا حق اسلام نے نبی کو اور اس کی نیابت میں خلیفہ کو دیا ہے مگر کوئی یہ ثابت نہیں کر