خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 368

خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء پیش آئیں ان کے مطابق قواعد تجویز ہوتے رہیں۔تجربہ سے یہ بات بہت ضروری ثابت ہوئی ہے۔مجلس شوریٰ میں سوالات مجلس شوریٰ میں ایک کام ایسا ہوتا ہے جس سے اُس وقار اور سنجیدگی کو نقصان پہنچ رہا ہے جو ہماری جماعت کا خاصہ ہے اور وہ سوالات کا حصہ ہے باوجود یکہ کہ میں نے دوستوں کو کئی بار اس طرف توجہ دلائی ہے پھر بھی سوالات اُسی طرز کے ہوتے ہیں جس طرح گورنمنٹوں میں ہوتے ہیں۔جو سوال کیا جاتا ہے اُس کے الفاظ کچھ اور ہوتے ہیں لیکن اُن کے نیچے غرض کوئی اور پنہاں ہوتی ہے۔سوال کے الفاظ سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے سوال کنندہ کا وہ مطلب نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور ہوتا ہے۔سوال کرنے والے کی سوال سے غرض اصلاح نہیں ہوتی بلکہ جن پر سوال کیا جاتا ہے اُنہیں پھنسانا اور گرفت میں لانا ہوتی ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو کارکن جواب دیتے ہیں اُن کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ٹال دیں اور موقع گزار دیں۔اس طرح جہاں سوال کرنے والوں کے دلوں پر زنگ لگتا ہے وہاں جواب دینے والوں کو بھی صدمہ اُٹھانا پڑتا ہے اور اس طرح تقویٰ اور دیانت کو نقصان پہنچتا ہے۔چونکہ جو طریق تقومی اور خشیت اللہ کو نقصان پہنچانے والا ہو وہ کسی صورت میں بھی مفید نہیں ہوسکتا۔اس لئے میں اسے آئندہ کے لئے بند کرتا ہوں۔اگر کسی کو سلسلہ کے کاروبار میں کوئی نقص نظر آئے تو نقائص کی اصلاح کا طریق اُس کا فرض ہے کہ وہ صاف طور پر کہے مجھے فلاں نقص نظر آتا ہے اس کی اس طرح اصلاح کی جائے۔یہ ایک جائز اور مفید طریق ہے اور اس کی میں اجازت دیتا ہوں لیکن یہ کسی طرح جائز نہیں کہ بات دل میں کوئی اور ہو اور ظاہر کوئی اور کی جائے۔اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی کارکن جس سے کوئی غلطی ہو وہ اسے چھپائے اور اُس پر پردہ ڈالنے کے لئے کوئی اور جواب گھڑے۔دُنیوی حکومتوں میں سوال کرنے والے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جن سے سوال کیا جائے وہ جواب صحیح نہ دے سکیں اور لوگوں کو اُن کی بد دیانتی اور نا قابلیت معلوم ہو جائے اور جواب دینے والوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ گوسوال کرنے والے کی بات ٹھیک ہو تو بھی جواب ایسا دیں کہ وہ غلط ہی معلوم ہو۔