خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 339

خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء سکھایا جائے اور ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ ہر ایک احمدی تلوار رکھے۔میں نے اس سال یہ تجویز کی ہے کہ انصار اللہ کے سب ممبر تلوار رکھیں اور انہیں تلوار چلانا سکھایا جائے۔اسی طرح باہر بھی جو نو جوان ہیں وہ رکھیں۔بڑے بھی رکھیں مگر ان کے لئے ضروری نہیں۔نوجوانوں کے لئے تلوار رکھنا لازمی قرار دیا جائے۔پس اس وقت یہ دو تجویزیں منظور کرتا ہوں : - ا۔دوست حتی الامکان ایسی ورزشوں میں حصہ لیں جو جسموں میں مضبوطی ، دلیری اور جرات پیدا کریں۔۲۔وہ نو جوان جن کی عمر ۲۵ سال سے کم ہو اُن کے لئے ایسے انتظام کی کوشش کی جائے کہ وہ تلوار رکھنے اور تلوار چلانے ، فوجی ورزشیں کرنے کا کام سیکھیں۔یہاں اس کام کے لئے انسٹرکٹر رکھا جائے۔باہر جماعتیں اپنے ہاں کے ایک ایک دو دو نو جوانوں کو بھیج دیں جو یہاں کام سیکھیں اور پھر دوسروں کو جا کر سکھائیں۔امور عامہ کے سپرد یہ کام ہو وہ اس کے سکھانے کا انتظام کریں۔“ تحقیقاتی کمیٹی کا تقرر مجلس مشاورت کے دوسرے دن (۳۰/ مارچ ۱۹۲۹ء کو) حضور نے دفتری کام کی پڑتال کے لئے مقررہ تحقیقاتی کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : - میں نے گزشتہ سال چند دوستوں کی ایک کمیٹی مقرر کی تھی تا کہ وہ دیکھے آیا صحیح طور پر دفاتر میں کام ہوتا ہے یا نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ دوست مخلص، معتبر اور تجربہ کار تھے پھر بھی اُنہوں نے کام نہ کیا۔میں نہیں سمجھتا ان سے بہتر اس کام کے لئے ہم کہاں سے لاتے۔دفتری کاروبار کے متعلق مصیبت یہی ہے کہ کام وقت پر نہیں ہوتا تا کہ پوری نگرانی کی جا سکے اور یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ جو فیصلے ہوتے ہیں اُن کی پابندی ہوتی ہے یا نہیں۔مجھے اپنے طور پر جب کوئی ضرورت پیش آئی ہے تو بعض ہدایات دے دی جاتی ہیں۔میرا نہ یہ کام ہے اور نہ اتنی فرصت کہ آڈیٹر کے طور پر دفاتر کو چیک کروں۔