خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 338
خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کریں گے۔جس سے جسمانی صحت کو فائدہ پہنچے اور طاقت حاصل ہوتا کہ بوقت ضرورت وہ ملک اور مذہب کے لئے تیار ہوسکیں۔اب کے جب میں لاہور گیا تو ایک جگہ موٹر خراب ہو گئی۔وہاں قریب ہی کرکٹ کی کھیل ہو رہی تھی۔کرکٹ کے ایک شوقین دوست ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے شوق ظاہر کیا کہ کھیل دیکھ لیں میں بھی وہاں چلا گیا۔وہاں ہندوستان کے ایک مشہور لیڈ ر آ گئے اور مجھے دیکھ کر حیرانی سے کہنے لگے آپ بھی یہاں آگئے۔میں نے کہا یہاں آنے میں کیا حرج ہے؟ کہنے لگے یہاں کھیل ہو رہی ہے۔میں نے کہا میں تو خود ٹورنا منٹ کراتا ہوں اور کھیلنے بھی جاتا ہوں۔پہلے فٹ بال بھی کھیلا کرتا تھا مگر اب صحت اسے برداشت نہیں کرتی۔اُنہیں یہ باتیں سُن کر بہت تعجب ہوا۔گویا پڑھے لکھے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال ہے کہ دین اور ورزش ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلوار کی کھیل خود کراتے۔حدیث میں آتا ہے ایک دفعہ تیر اندازی کے موقع پر خود بھی خواہش ظاہر کی کہ میں بھی شامل ہوتا ہوں۔صحابہ نے کہا آپ جس فریق کے ساتھ شامل ہوں گے اُس کے خلاف کس طرح کوئی مقابلہ کے لئے کھڑا ہوگا کہ آپ حضرت عائشہ کے ساتھ مقابلہ دوڑے حضرت مسیح موعود علیہ السلام منگلیاں پھیرا کرتے تھے۔ایک دوست کے پاس اب بھی موجود ہے اور ایک ہمارے گھر میں ہے۔میں نے خود بھی منگلیاں خریدیں۔حضرت مسیح موعود کو پتہ لگا تو آپ نے فرمایا مجھے دکھاؤ۔پہلے تو میں ڈرا کہ شاید ناراض ہوں مگر جب لے کر گیا تو دیکھ کر فرمانے لگے ہلکی ہیں میں یہ نہیں پھیر سکتا۔تو دو نبیوں کے متعلق تو ہمیں معلوم ہے کہ ورزش میں حصہ لیتے تھے۔خود رویا میں مجھے بتایا گیا کہ ورزش نہ کرنا بعض حالات میں گناہ ہوتا ہے کیونکہ پھر انسان دین کے کاموں میں حصہ نہیں لے سکتا۔پس میں دوستوں سے اُمید کرتا ہوں کہ جو کسی رنگ میں معذور نہ ہوں ایسی ورزشیں اختیار کریں جو صحت کو عمدہ بنانے، تکالیف برداشت کرنے کے قابل بنانے ، بہادری اور جرات پیدا کرنے والی ہوں۔دوسری تجویز تلوار کی ہے، اس پر فی الحال سارے لوگ عمل نہیں کر سکتے مگر جماعت کو منظم کرنے کے لئے ضروری ہے۔ہر ایک کے لئے مشکل ہے لیکن نوجوانوں کے لئے جو ۲۰٫۲۵ سال کے ہوں، فوجی ورزشیں سکھانی ضروری ہیں۔انہیں تلوار اور گنتکہ کا کام بھی