خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 340
خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء پڑتال میں نقص وہ لوگ جنہیں کاموں کا ذمہ وار سمجھا جاتا ہے اُن کے متعلق اعتبار کرنا پڑتا ہے کہ وہ کام چیک کرتے ہوں گے مگر عمدگی سے یہ کام نہیں کیا جاتا۔مثلاً مالی مشکلات کو دیکھ کر میں نے کہا تھا کہ غیر معمولی طور پر جو آمدنی ہوا سے ریز رو میں رکھا جائے تا کہ خاص حالات میں اس سے کام لیا جا سکے۔چنانچہ میں نے ہدایت کی تھی کہ وصایا کے ذریعہ جو غیر معمولی آمدنی پانچ سو یا اس سے زیادہ ہو، اُسے امانت میں رکھا جائے اور ایسے کام پر لگایا جائے جس سے آمد ہوتا کہ جب اخراجات کی تکلیف پیدا ہو تو اس رقم سے لئے جائیں اور ایسا نہ ہو کہ تین تین ماہ کی تنخواہیں ادا نہ ہوسکیں۔جسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ ملے اُس نے کام کیا کرنا ہے۔وہ جب کام کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو اُس کے کان میں آواز آتی ہے آٹا نہیں اور جب شام کو واپس جاتا ہے تو بچے بھوک سے رور ہے ہوتے ہیں اس حالت میں کس طرح دلجمعی سے کام کر سکتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ نہ تو کوئی ریز روفنڈ ہے نہ کوئی اور ایسا ذریعہ کہ جس سے مصیبت کے وقت کام لے سکیں۔گورنمنٹ یہی فنڈ رکھتی ہے حالانکہ وہ جبر سے بھی لوگوں سے روپیہ وصول کر سکتی ہے۔کئی سال کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ نظارت نے میری اس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔اگر کام کی نگرانی ہوتی تو ایسا نہ کیا جاتا۔پھر جماعت کی تسلی کے لئے بھی ضروری ہے کہ نظارتوں کے کام کی پڑتال ہوتی رہے تا معلوم ہو ہدایات کے ماتحت کام ہوتا ہے یا نہیں۔ہمارے دوستوں نے جو عُذر پیش کیا اُسے میں منظور نہیں کرتا اور وہ سوال جو اس وقت پیش ہے اس کے متعلق کچھ کہنے سے پہلے میں پھر کمیٹی مقرر کرتا ہوں اور اِس کام کے لئے انہی دوستوں کو مقرر کرتا ہوں جنہیں گزشتہ سال مقرر کیا گیا تھا تا کہ وہ اپنی کوتاہی کا کفارہ کر سکیں۔تحقیقاتی کمیٹی کا کام اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ نظارتوں کا معائنہ کرے اور پانچ باتیں دیکھے :۔ا۔ناظر مقررہ فرائض کو اُس رقم میں جو اُن کے لئے منظور کی جاتی ہے پوری طرح ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔گویا یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ عملہ اور رقم کے مطابق نظارتیں صحیح کام کرتی ہیں یا نہیں۔اگر کام زیادہ ہو اور عملہ اور رقم کم ہو تو اس کے متعلق رپورٹ کی جائے کہ اس