خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 337
خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء تقریر کر سکتے ہوں وہ پنجابی میں کر لیں۔چونکہ کثرت سمجھنے والوں کی ہے اس لئے ترجمہ نہیں کیا جا تا اور ابھی ہماری مجلس مشاورت کے متعلق قواعد بھی ایسے نہیں ہیں کہ ضرور اسی طرح ہو اس کے خلاف نہ ہو، بلکہ ہم تو فی الحال کام چلانا چاہتے ہیں۔اس لئے نہ یہ ضروری ہے کہ ہر تقریر کا ایک مقررہ زبان میں ترجمہ ہو اور نہ یہ کہ کسی تقریر کا ترجمہ نہ ہو۔اگر دیکھا جائے کہ کوئی پنجابی یا انگریزی کی تقریر بہت ضروری ہے اور اُس کا خاص اثر ہے تو اُس کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے ورنہ نہیں۔“ صحت کے لئے ورزش کرنے کی ضرورت کچھ احباب نے تجویز پیش کی کہ جلسہ سالانہ کے معا بعد ٹورنامنٹ رکھا جائے تا کہ کھیلوں میں دلچسپی سے احباب کی صحت بہتر ہو سکے۔اس پر بہت سے احباب نے مختلف تجاویز پیش کیں جن پر حضرت خلیفہ اسیح نے فرمایا : - ย معلوم ہوتا ہے سب دوستوں میں کچھ نہ کچھ کھیلنے کا جوش ہے اور کھیلیں اتنی ہیں کہ اگر اُن سب کا اس وقت ذکر کیا گیا تو خود کا نفرنس کھیل بن جائے گی چونکہ یہ مذہبی معاملہ نہیں غرض یہ ہے کہ لوگوں کو ورزش کرنے ، محنت اور مشقت برداشت کرنے ، قومی مضبوط کرنے کا سامان کیا جائے اس لئے میں سمجھتا ہوں اگر اس بحث کو لمبا کیا گیا تو یہ معاملہ شُد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ها کا مصداق بن جائے گا اس لئے عام طریق کے برعکس کہ رائے لینے کے بعد فیصلہ دیا کرتا ہوں پہلے ہی بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ دوستوں کی اتنی رائے معلوم ہو گئی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کی ورزش جماعت میں ضرور ہونی چاہئے۔کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ ورزش نہیں ہونی چاہئے۔اس سے تو سب متفق ہیں یا بنظر احتیاط یہ کہا جا سکتا ہے کہ قریباً سب متفق ہیں۔یہ میں ان کی رائے سمجھ لیتا ہوں کہ ورزش کرنا سب ضروری سمجھتے ہیں۔باقی یہ کہ کوئی خاص طریق ورزش کا سب کے لئے لازمی قرار دے دیا جائے یہ ناممکن ہے۔بیمار، کمزور، معذور بھی ہوتے ہیں اس لئے جو فیصلہ ہم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ جماعت کے احباب ورزش ضرور کیا کریں اور امید کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی رنگ میں ورزش ضرور اختیار