خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 326

خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء اموال ، ہمارے اوقات اور ہماری جانیں ایسے رنگ میں خرچ ہوں کہ اسلام کو مدد ملے اور ہماری کسی بات میں نفسانیت نہ ہو۔دین کے کاموں کو دنیا کے کاموں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔دنیا کے کاموں میں اس طرح ہوتا ہے کہ جہاں کا روپیہ ہو وہیں خرچ کیا جاتا ہے لیکن دین کے متعلق اس طرح نہیں کیا جاسکتا۔دیکھو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی طرح کرتے تو تمام تبلیغ رک جاتی۔امرتسر میں جو احمدی ہوتے اگر ان کا روپیہ امرتسر میں ہی صرف کیا جاتا ، لاہور میں جو ہوتے ان کا چندہ لاہور میں ہی صرف کیا جاتا ، جو قادیان میں ہوتے ان کا قادیان میں صرف ہوتا تو پھر دوسرے مقامات پر تبلیغ کس طرح سے کی جاسکتی۔بات یہ ہے کہ دینی معاملات میں حدود مرئی نہیں ہوتے جس طرح حکومتوں کے ہوتے ہیں۔پس ہمیں اپنے فیصلوں میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھنا چاہئے۔امید ہے دوست ایسے رنگ میں کلام کریں گے اور مشورہ دیں گے کہ جب یہاں سے جائیں تو اگر کسی کے دل پر پچھلی غلطی سے زنگ لگ گیا ہو تو اب اُس کے دل سے نور کا شعلہ اُٹھ رہا ہوگا اور وہ تازہ ایمان اور معرفت لے کر جائیں گے۔زنانہ ہائی سکول اس کے بعد میں ایک ایسے امر کے متعلق جو ایجنڈے میں نہیں، کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔پچھلے سال مجلس مشاورت کے موقع پر تجویز کی گئی تھی کہ دس ہزار روپیہ زنانہ ہائی سکول کے لئے عورتوں سے جمع کیا جائے۔میں نے اس کے متعلق کہا تھا یہ پسندیدہ بات نہیں ہے کہ عورتوں سے روپیہ لے کر عورتوں کا مدرسہ قائم کیا جائے۔اس سے یہ سوال پیدا ہوگا کہ عورتوں کے کام عورتوں کے روپے سے ہوں اور مردوں کے کام مردوں کے روپے سے۔یہ سپرٹ ہماری جماعت میں نہیں پیدا ہونی چاہئے۔ہم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں خواہ مرد ہوں خواہ عورتیں اور ہمارے کام نہ مردوں کے لئے ہونے چاہئیں نہ عورتوں کے لئے بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہونے چاہئیں۔ہاں اگر کسی کام میں یہ امتیاز قائم کرنا ہے تو پھر یوں ہونا چاہئے کہ صرف مردوں کے روپے سے عورتوں کا مدرسہ بنے تا یہ ظاہر ہو کہ ہماری جماعت کے مرد عورتوں کی ترقی کے اسباب پیدا کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس کے لئے میں نے بعض دوستوں کو تحریک کی تھی۔اس کے ساتھ ہی دو اور تحریکیں بھی تھیں۔ایک