خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 325

خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لشکر کو لے کر ہمیں میل آگے بڑھ گئے ہیں مگر جب تک انہیں وہاں سے ہٹنے کا حکم نہ دیتے نہ ہٹتے۔اُس وقت انہیں عقل کہتی تھی بھاگتے ہوئے دشمن کے پیچھے جائیں گے تو فتح اور زیادہ یقینی ہو جائے گی لیکن خشیت اللہ کا یہ تقاضا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پابندی کرتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ کہ خدا تعالیٰ نے دشمنوں کی نظر ادھر پھرا دی اور انہیں بتایا کہ تم کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ تمہاری کامیابی کی صورت نکل آئی ہے۔چنانچہ اُنہوں نے مڑ کر ادھر سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا جہاں سے وہ صحابہ ہٹے تھے۔یہ خدائی فعل تھا۔یہ غلط ہے کہ خالد کی نظر اُس مقام کی طرف پڑی اور یہ بھی غلط ہے کہ مکہ کے بعض سرداروں کی نظر اُدھر گئی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے یہ تدبیر کی تھی اور مسلمانوں کو یہ نقصان ہم نے پہنچایا تھا اور اس بات کی سزا میں پہنچایا تھا کہ انہوں نے رسول کی بات کا ادب کیوں نہیں کیا تھا۔وہ غم جو رسول کو پہنچایا گیا اُس کے بدلے خدا تعالیٰ نے ان کو غم پہنچایا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ہمارا کام تھا۔پس یقیناً کفار کی نظر اُس وقت اپنے آپ نہ اُٹھی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اٹھائی تھی تا مسلمانوں کو بتائے کہ خواہ بحالات ظاہرہ کوئی فیصلہ صحیح نظر آئے اگر خشیت اللہ مدنظر نہ ہو تو پھر کامیابی نہیں ہوسکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اور کئی مثالیں اس قسم کی مل سکتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی پائی جاتی ہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ یہ مومن کی زندگی میں پائی جاتی ہیں کہ کئی صحیح فیصلے اُس کے لئے وبالِ جان ثابت ہوتے ہیں اور کئی غلط فیصلے یعنی اجتہادی غلطیاں اُس کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہیں جبکہ وہ خشیت اللہ کے ہوتے ہوئے سرزد ہوں۔خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی پس آپ میں سے ہر ایک شخص خشیت اللہ کو کام میں لاتے ہوئے اپنے بھائیوں کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ہمارا کام خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہے، ہمارا سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے، ہم اگر چندہ دیتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے لئے دیتے ہیں۔ہماری ساری کوشش اس بات کی ہونی چاہئے کہ ہمارے