خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 327
خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء تو یہ کہ کچھ لوگ ایسے تھے جن کی اعانت اور مدد ضروری تھی لیکن صدقات کا فنڈ ختم ہو چکا تھا۔ایک اور تھی جس کا بیان کرنا میں اس وقت ضروری نہیں سمجھتا۔تیسری مد زنانہ سکول کی تھی۔چونکہ پچھلا سال قحط کا سال تھا، اس لئے میں نے اس تحریک کو بہت محدود حلقہ میں رکھا۔صرف چند دوستوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اُن کو بھی اجازت دے دی تھی کہ چاہیں تو شامل ہوں اور چاہیں تو نہ شامل ہوں، ان کے لئے شامل ہونا ضروری نہیں۔اس تحریک کے مطابق انداز اساڑھے سات ہزار کے قریب روپیہ آیا ہے۔جس میں سے تین ہزار تو ان دونوں مدوں کی طرف منتقل کیا گیا جن میں سے ایک کا میں نے ذکر کر دیا ہے اور ایک کا نہیں کیا ہے اور ساڑھے چار ہزار روپیہ زنانہ سکول کے لئے رکھا گیا۔جس کے متعلق تجویز ہے کہ مدرسہ کی زمین خرید لی جائے۔پندرہ سو کے قریب ابھی وعدے باقی ہیں۔وہ دوست بعض مجبوریوں کی وجہ سے روپیہ نہیں بھیج سکے اور بعض دور کے مقامات کے ہیں ابھی ان کی طرف سے روپیہ پہنچ نہیں سکا۔ان کی طرف سے روپیہ آ جانے پر امید ہے پانچ ساڑھے پانچ ہزار تک اور ممکن ہے۔چھ ہزار تک روپیہ ہو جائے جس سے اس سال زمین خرید لی جائے گی چونکہ یہ تحریک مجلس کے موقع پر ہی ہوئی تھی اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے لئے روپیہ جمع کروں گا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت اس بات کو بیان کر دوں تا یہ نہ سمجھا جائے کہ اس طرف توجہ نہیں کی گئی۔زنانہ تعلیم کی ضرورت زنانہ سکول نہایت اہم ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے اور ایسی اہم ضرورت ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اسلام کے خلاف سب سے زیادہ فساد عورتوں کے ذریعہ پیدا کیا گیا اور پیدا کیا جا رہا ہے۔اس لئے آہن با آہن کوفتن کے اصل کے مطابق ضروری ہے کہ عورتوں کے ہی ذریعہ اس فتنہ کا سد باب کیا جائے لیکن صرف قادیان کی لڑکیاں پڑھ کر یہ کام نہیں کر سکتیں۔اول تو یہاں کی لڑکیاں ہر جگہ پہنچ نہیں سکتیں۔دوسرے ہر فرد کے دل میں جو یہ خواہش ہے کہ دین کے کام میں حصہ لے وہ پوری نہیں ہو سکتی۔اس لئے ضروری ہے کہ لڑکیوں کے لئے محفوظ اور منظم بورڈنگ بھی قائم کیا جائے تاکہ دُور دُور کے احمدی اپنی لڑکیاں یہاں پڑھنے کے لئے بھیج سکیں اور دوسرے لوگ بھی جو چاہیں بھیج سکیں اور ایسا انتظام کیا جائے کہ دُنیوی تعلیم