خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 322
خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ٹھوکر کا موجب بن جائیں۔جب تک لوگوں کے دلوں میں نور ایمان باقی رہے گا وہ دبی کی دبی رہیں گی لوگوں کی توجہ اپنی طرف نہ کھینچ سکیں گی۔اسی طرح لوگوں کی توجہ ان پر سے پھسلتی رہے گی جس طرح تیل ملے ہوئے جسم سے پانی کا قطرہ پھسل جاتا ہے لیکن جب لوگوں کے ایمان میں کمزوری آجائے گی ، ان کے عرفان میں کمی ہو جائے گی ، ان کے دل اخلاص اور محبت سے اس طرح پر نہ رہیں گے جس طرح آجکل کے لوگوں کے ہیں تو ٹھوکر کا موجب بن جائیں گی۔پس ہماری ذمہ داریاں روز بروز بڑھ رہی ہیں جتنا جتنا اسلام کامیابی اور ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، ہمارے لئے اُتنا ہی زیادہ خطرہ پیدا ہو رہا ہے اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنے تمام فکروں، تمام تدبیروں اور تمام مشوروں میں اس پہلو کو مدنظر رکھیں کہ ہمارے معاملات دنیا کے معاملات سے بہت فرق رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے زمانہ بعثت کے قریب کی جو جماعتیں ہوتی ہیں خاص درجہ اُنہیں خاص درجہ دیا جاتا ہے۔نہ اس لحاظ سے کہ خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے بلکہ اس لحاظ سے جو پارلیمنٹیں جو قانون بناتی ہیں اُسے بعد میں آنے والے لوگ تو ڑ سکتے ہیں مگر مذہب میں پہلے آنے والوں کی باتوں کو عزت اور توقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ان کے فیصلوں کا توڑنا بغیر نبیوں کی آمد کے ناممکن ہوتا ہے۔تیرہ سو سال کا تو بڑا عرصہ ہے اس سے قلیل عرصہ کی حکومتوں کو دیکھ لو ان کے قوانین بدل گئے ، ان کی تعزیرات تبدیل ہو گئیں لیکن اگر ابتدائی زمانہ کے مسلمانوں میں کوئی غلطی بھی پیدا ہو گئی تو پھر اس کا مٹانا ناممکن ہو گیا اور اُس وقت تک ناممکن رہا جب تک خدا تعالیٰ نے اپنا ماً مور نہ بھیجا۔اس مأمور نے بھی اپنے قلم سے ان کو نہ مٹا دیا بلکہ اس غرض کے لئے ایک جماعت قائم کی جس کا فرض قرار دیا کہ غلطیوں کو مٹائے۔اب وہ جماعت نہ معلوم کتنے عرصہ میں ان غلطیوں کو مٹانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔نمائندگان مجلس شوری کو نصیحت پس میں ان دوستوں کو جو مجلس شورٹی میں شمولیت کے لئے آئے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کریں۔لستانی اور لفاظی نہ یہاں کام آ سکتی ہے اور نہ اگلے جہان میں۔جو چیز