خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 323
خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ہمیں دنیا میں فوقیت دے سکتی ہے اور آخرت میں سرخرو کرسکتی ہے وہ یہی ہے کہ ربنا الله " یعنی ہم کہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔اگر یہ چیز ہم میں موجود نہ ہو۔اگر ربنا اننا سمعنا مُنَادِيًا يُنَادِي للايمان آن امِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامت کے والی بات ہم میں موجود نہ ہو تو غور کر لو دنیا کی دوسری طاقتوں اور قوتوں اور قوموں کے مقابلہ میں ہماری ہستی ہی کیا ہے۔ایک پشہ کے پر کے برابر بھی نہیں۔یہی اور صرف یہی چیز ہے جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں۔یہی چیز ہے جو ہمارے قلوب پر غالب آنی چاہئے۔ہمارے غور پر خدا تعالیٰ کی خشیت حاکم ہو، ہمارے فکر پر خدا تعالیٰ کا خوف حاکم ہو، ہماری زبان پر خدا تعالیٰ کا خوف حاکم ہو، ہمارے دل پر خدا تعالیٰ کا خوف حاکم ہو، ہمارے مشوروں پر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو، ہمارے فیصلوں پر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو، وہی چیز جس کی وجہ سے ہم دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔اُسی کی قدر و منزلت ہمارے دلوں پر غالب ہو۔پس میں امید رکھتا ہوں دوست مشوروں میں کسی قسم کی نفسانیت کو دخل انداز نہیں ہونے دیں گے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ میں نے پچھلے سال بھی اسی قسم کی نصیحت کی تھی بعض دوستوں نے اس پر عمل نہ کیا۔بعض کارکنوں کی طرف سے بھی ایسی باتیں کی گئیں جو نا پسندیدہ تھیں اور باہر کے دوستوں کی طرف سے بھی۔میں نہیں سمجھتا ہم سے زیادہ نقصان اور گھاٹے میں کون ہو سکتا ہے جبکہ ہم دنیا کو خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ کر آئیں لیکن جب خدا تعالیٰ کے قریب پہنچیں تو ایسی حرکات کریں کہ اُس کے حضور سے نکالے جائیں اور ہم اس کے مصداق بن جائیں نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا کی خشیت کے ماتحت فیصلے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط بھی ہو مگر خدا تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو دل میں رکھتے ہوئے ہو تو ہماری کامیابی میں زیادہ روک نہ ہوگا۔لیکن اگر ہمارے فیصلے تو صحیح ہوں مگر خدا تعالیٰ سے دُور ہو کر کئے گئے ہوں تو باوجود ان فیصلوں کی صحت کے کامیابی سے ہم بہت دُور رہیں گے کیونکہ اس دنیا کے تغیرات ہمارے فیصلوں پر مبنی نہیں ہیں۔ہمارے فیصلے محدود معاملات کے متعلق ہوں گے اس لئے صحیح فیصلوں کے بعد بھی ایسی باتیں رونما ہوں گی جو ہمارے