خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 321
خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے موجب ابتلاء نہیں ہوتیں لیکن بعد میں آنے والوں کے لئے ابتلاء کا موجب بن جاتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ کی بعض روایات میں حضرت مسیح ناصری کی نسبت بعض ایسے تعریف و توصیف کے کلمات آئے جو آج عیسائیوں کے اسلام پر حملہ کرنے کا موجب بن رہے اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کا آلہ کار ثابت ہو رہے ہیں مگر صحابہ پر ان کا کوئی اثر نہ پڑا۔وہ روایات جن سے آج حیات مسیح ثابت کی جاتی ہے کئی صحابہ کے وقت بھی موجود تھیں مگر باوجود ان کے موجود ہونے کے جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا قرآن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جس قد را نبیاء آئے وہ فوت ہو گئے ہیں ہے تو کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔جیسے روشنی کے سمندر میں جبکہ سورج پوری تمازت سے چمک رہا ہو کوئلہ کا ایک ذرہ اس روشنی کو کم نہیں کر سکتا اسی طرح وہ روایتیں اپنے زمانہ میں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن وہ بیچ بن گئیں آئندہ زمانہ کے لوگوں کی ٹھوکر کے لئے۔اور جب لوگوں کے دلوں میں وہ روحانیت نہ رہی جو صحابہ کے دلوں میں تھی بلکہ ان روایتوں کے راویوں کے دلوں میں تھی تو وہی روایت وہی درائت وہی استنباط، وہی اجتہاد جو خود راویوں کے لئے گمراہی اور ٹھوکر کا موجب نہ ہو ا تھا وہی بعد میں آنے والوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو گیا۔باوجود ان تمام روایات کے حضرت ابو ہریرہ موحد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض کی وجہ سے بعد میں آنے والے کئی مسلمان شرک کے عقیدوں میں مبتلا ہو گئے کیونکہ ان کے پاس حضرت ابوہریرۃ کے الفاظ تو پہنچے مگر اُن کا ایمان نہ پہنچا۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت تو پہنچی مگر اس کے ساتھ ان کا نور نہ آیا اس لئے جبکہ حضرت ابو ہریرہ با وجود ان روایتوں کے بیان کرنے کے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے، بعد میں آنے والے ان روایتوں کو سن کر خدا تعالیٰ سے دُور ہو گئے۔پس یہ تو مجھے پورا یقین اور وثوق ہے اور اگر ساری دنیا بھی اس کے خلاف کہے تو میں نہیں مان سکتا کہ ہماری جماعت تھوڑی ہو یا بہت کمزور ہو یا طاقتور،ضرور اسلام کو دنیا میں پھیلائے گی ہماری کمزوریاں اور کوتاہیاں ترقی اسلام میں روک نہیں بن سکیں گی۔ہماری غلطیاں مگر یہ ہو سکتا ہے کہ ہماری کمزوریاں اور ہماری غلطیاں دوسو سال یا چار سو سال یا ہزار سال یا چار ہزار سال بعد آنے والے لوگوں کے لئے