خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 8

خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء انتظام میں، قدرت میں، اختیار میں ہم سے زیادہ ہیں۔ان کے پاس مال بھی ہے، اُن کے قبضہ میں فوج بھی ہے، حکومت بھی ہے، لیکن ہم جنہوں نے دنیا کو فتح کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ہمارے پاس نہ قوت ہے، نہ مال ہے ، نہ تجربہ ہے، نہ واقف کارلوگ ہیں۔گویا ہم ہر بات میں ان سے کمزور ہیں اس لئے ہمارے مشورے تبھی مفید ہو سکتے ہیں کہ خدا پر نظر رکھیں۔اس لئے پہلی نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ ہر شخص خدا کی طرف توجہ کرے اور دعا کرے کہ الہی ! میں تیرے لئے آیا ہوں تو میری راہ نمائی کر کسی معاملہ میں میری نظر ذاتیات کی طرف نہ پڑے۔نہ ایسا ہو کہ کوئی رائے غلط دوں اور اُس پر زور دوں کہ مانی جائے اور اس سے دین کو نقصان پہنچے۔نہ ایسا ہو کہ کوئی ایسی رائے دے جو ہو تو غلط مگر اس کی چکنی باتوں یا طلاقت لسانی سے میں اس سے متفق ہو جاؤں۔میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ نہ ایسا ہو کہ مجھ میں نفسانیت آجائے یا اپنی شہرت و عزت کا خیال پیدا ہو یا یہ کہ بڑائی کا خیال پیدا ہو یا یہ کہ بڑائی کا خیال آجائے۔نہ ایسا ہو کہ میری رائے غلط اور مصر ہو۔نہ یہ ہو کہ میں کسی کی غلط رائے کی تائید کروں۔میری نیت درست رہے۔میری رائے درست ہو اور تیری منشاء کے ماتحت ہو۔یہ دعا ہر دوست کو کر لینی چاہئے اور ہمیشہ کرنی چاہئے جب بھی ہماری جماعت مشورہ کرنے لگے صرف آج کے لئے ہی نہیں۔(۲) یہ کہ پہلی نصیحت دعا کے متعلق ہے مگر کوئی دعا قبولیت کا جامہ نہیں پہنتی جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔مثلاً انسان دعا تو کرے کہ اُسے خدمت دین کی توفیق ملے مگر عملاً ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اسے کیا توفیق ملے گی۔تو دعا کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ آج بھی اور کل بھی اور پھر جب کبھی مشورہ ہو ذاتی باتوں کو دل سے نکال دیا جائے۔لوگوں نے بعض باتیں دل میں بٹھائی ہوتی ہیں کہ یہ منوائیں گے لیکن مشورہ کے یہ معنی نہیں کہ ایسی باتوں کو بیان کرو بلکہ یہ ہیں کہ اپنے دماغ کو صاف اور خالی کر کے بیٹھو اور صحیح بات بیان کرنی چاہئے۔عام طور پر لوگ فیصلہ کر کے بیٹھتے ہیں کہ یہ بات منوانی ہے اور پھر اس کی بیچ کرتے ہیں۔مگر ہماری جماعت کو یہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ صحیح بات ماننی اور منوانی چاہیئے۔(۳) یہ کہ جب مشورہ کے لئے بیٹھیں تو مقدم نیت یہ کر لیں کہ جس کام کے لئے مشورہ کرنے