خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 9

خطابات شوریٰ جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء لگے ہیں اس میں کس کی رائے مفید ہو سکتی ہے نہ یہ کہ میری رائے مانی جائے۔(۴) یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ آج بھی اور آئندہ بھی ہر وقت جب مشورہ لیا جائے کسی کی خاطر رائے نہیں دینی چاہئے بعد میں بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ میری تو یہ رائے نہ تھی مگر فلاں دوست نے کہا تھا اس لئے دی تھی۔روپیہ غبن کرنا اتنا خطر ناک نہیں جتنی یہ بات خطرناک ہے مگر یہ ایسی آسان سمجھی جاتی ہے کہ بڑے بڑے مدبر بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ہندوستان کی کونسل کا واقعہ ہے کہ ایک ممبر نے کہا میری یہ رائے نہ تھی مگر فلاں دوست نے چونکہ کہا تھا اس لئے میں نے اُس کی خاطر رائے دیدی۔تعجب ہے اُس نے اس بات کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھا۔مگر یہ سخت بد دیانتی ہے۔ہماری جماعت کے لوگ اس سے بچیں اور کسی کی خاطر نہیں بلکہ جو رائے صحیح سمجھیں وہ دیں۔(۵) کسی اور حکمت کے ماتحت رائے نہیں دینی چاہئے بلکہ یہ مد نظر ہو کہ جو سوال در پیش ہے اُس کے لئے کونسی بات مفید ہے۔اس کی تشریح میں مثال دیتا ہوں مثلاً ایک سوال پیش ہے کہ فلاں کام جاری کیا جائے۔بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ کام کو جاری کرنا تو مفید سمجھتے ہیں مگر یہ خیال کر کے کہ اگر جاری ہو گیا تو فلاں اس پر مقرر ہو گا اس کی مخالفت کرتے ہیں۔یہ بد دیانتی سے بھی کرتے ہیں اور کبھی اس شخص کو مناسب نہیں سمجھتے۔مگر بجائے اس کے کہ اس کے تقرر کا جب سوال آئے تو اس وقت بحث کریں یا اس طرح کہیں کہ اس کام کو جاری نہیں کرنا چاہئے کیونکہ فلاں کے سوا اور کوئی نہیں جسے اس کام پر لگایا جاوے اور وہ موزوں نہیں یہ کہتے ہیں یہ کام ہی مفید نہیں۔چونکہ یہ بد دیانتی ہے اس لئے یہ نہیں ہونا چاہئے۔یا اس طرح کہ ایک کمیشن مقرر کرنا ہے جس کے لئے فلاں کو مقرر کرنا ہے اس پر ان کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ کیا جائے مگر بحث یہ شروع کر دیتے ہیں کہ کمیشن قائم کرنا ہی ٹھیک نہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے اصل معاملہ میں صحیح رائے دینی چاہئے۔(۶) جو سچی بات ہو اُسے تسلیم کرنے سے پر ہیز نہیں کرنا چاہئے خواہ اسے کوئی پیش کرے۔مثلاً ایک بات ایسا شخص پیش کرے جس سے کوئی اختلاف ہو مگر ہو سچی تو اگر کوئی اُس کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ پیش کرنے والے سے اُس کی مخالفت ہے تو بددیانتی کرتا ہے۔(۷) چاہئے کہ کوئی رائے قائم کرتے وقت جلد بازی سے کام نہ لے۔کئی لوگ پہلے رائے