خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 7
خطابات شوریٰ جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء تھا مگر اب ہر ایک بول پڑتا ہے اس لئے چند ایک کو بلا لیا جاتا ہے اور الگ مشورہ کر لیا جاتا ہے اور اگر الگ نہ کیا جائے تو نام لے دیئے جاتے ہیں کہ فلاں فلاں مشورہ دیں اس لئے اول تو کوئی بولتا ہی نہیں اور اگر کوئی بولنے کی جرات کرے تو اس سے بھی بعض دفعہ مفید نتیجہ نکال لیا جاتا ہے۔اب بھی اگر وہی طریق ہو کہ سردار ہوں تو اسی طرح مشورہ ہو سکتا ہے مگر ابھی چونکہ ایسا رواج نہیں اس لئے مشورہ کے لئے آدمی منتخب کرنے پڑتے ہیں۔(۲) دوسرا طریق مشورہ کا یہ تھا کہ وہ خاص آدمی جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشورہ کا اہل سمجھتے اُن کو الگ جمع کر لیتے باقی لوگ نہیں بلائے جاتے تھے۔جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشورہ لیتے تھے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے تیس کے قریب ہوتے تھے رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کو ایک جگہ بُلا کر مشورہ لے لیتے۔کبھی تین چار کو بلا کر مشورہ لے لیتے۔(۳) تیسرا طریق یہ تھا کہ آپ کسی خاص معاملہ میں جس میں آپ سمجھتے کہ دو آدمی بھی جمع نہ ہونے چاہیں علیحدہ علیحدہ مشورہ لیتے۔پہلے ایک کو بلا لیا اُس سے گفتگو کر کے اس کو روانہ کر دیا اور دوسرے کو بلا لیا۔یہ ایسے وقت میں ہوتا جب خیال ہوتا کہ ممکن ہے رائے کے اختلاف کی وجہ سے دو بھی آپس میں لڑ پڑیں۔یہ تین طریق تھے مشورہ لینے کے اور یہ تینوں اپنے اپنے رنگ میں بہت مفید ہیں۔میں بھی ان تینوں طریق سے مشورہ لیتا ہوں۔مشورہ کے لئے ہدایات اب یہ بتانا ہے کہ مشورہ دیتے وقت کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے کیونکہ اب مشورہ ہوگا۔(۱) ہمارا جمع ہونا کسی دنیا وی غرض اور فائدہ کیلئے نہیں۔میں تو قادیان کا رہنے والا ہوں باہر سے نہیں آیا۔آپ لوگوں میں سے بعض زمیندار ہیں۔جن کا فصلیں کاٹنے کا وقت ہے اُن کا اِس وقت گھروں سے نکلنا معمولی بات نہیں مگر وہ کام چھوڑ کر آئے ہیں۔بعض تاجر ہیں، بعض ملازم ہیں ، اُن کو کئی دن کے بعد یہ چھٹی ملی ہوگی ، کئی اور کام انہوں نے کرنے ہونگے مگر اُنہوں نے سب کو قربان کر دیا۔پس ہم خدا کیلئے جمع ہوئے ہیں اس لئے ہماری نظر خدا پر ہونی چاہئے۔چونکہ ساری دنیا کا مقابلہ ہے اور اُن کا مقابلہ ہے جو تجربہ میں،