خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 289

خطابات شوری جلد اوّل ۲۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء رہے۔وہ دوست اپنے ہموطن بابو روشن دین صاحب سے ہی پوچھ لیتے کہ سیالکوٹ میں لڑکیوں کا کوئی ایسا سکول ہے یا نہیں جس پر پائی اور آنہ خرچ ہو رہا ہے، تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ہم خرچ کر رہے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں اُن کی رائے کے خلاف ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ اس سے متفق ہوں مگر یہ کہتا ہوں کہ جوش میں ایسی بات نہ کہنی چاہئے جس سے دھوکا لگ سکے۔☆ میرے نزدیک عورتوں کی تعلیم ایسا اہم سوال ہے کہ کم از کم میں تو اس پر غور کرتے وقت حیران رہ جایا کرتا ہوں۔ایک طرف اس بات کی اہمیت اتنی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ دُنیا میں جو تغیرات ہو رہے ہیں یا آئندہ ہوں گے جن کی قرآن سے خبر معلوم ہوتی ہے ان کی وجہ سے وہ خیال مٹ رہا ہے جو عورت کے متعلق تھا کہ عورت شغل کے طور پر پیدا کی گئی ہے یا یہ خیال جس کی بنیا د واضح لفظوں میں بائبل نے رکھی تھی۔ہی گویا عورت کو صرف مرد کی خوشی کے لئے پیدا کیا گیا ، اب یہ خیال مٹ رہا ہے لیکن دوسری طرف اِس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت کا میدانِ عمل مرد کے میدان عمل سے بالکل علیحدہ ہے۔یہ غلط ہے کہ کبھی کسی عورت کو مرد کی طرح آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آج سے ہزاروں سال پہلے ایسے زمانے گزرے ہیں کہ عورت کے لئے ایسا ہی موقع تھا جیسا کہ مرد کے لئے مگر عورت خداوند خدا نے کہا کہ اچھا نہیں کہ آدم اکیلے رہے میں اس کے لئے ایک ساتھی اسی کی مانند بناؤں گا اور خداوند خدا نے میدان کے ہر ایک جانور اور آسمان کے پرندوں کو زمین سے بنا کر آدم کے پاس پہنچایا تا کہ دیکھے کہ وہ ان کے کیا نام رکھے۔سو جو آدم نے ہر ایک جانور کو کہا وہی اُس کا نام ٹھہرا اور آدم نے سب مویشیوں اور آسمان کے پرندوں اور ہر ایک جنگلی جانور کا نام رکھا۔پر آدم کو اُس کی مانند کوئی ساتھی نہ ملا اور خداوند خدا نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اُس نے اُس کی پسلیوں میں سے ایک پہلی نکالی اور اُس کے بدلے گوشت بھر دیا اور خداوند خدا اُس پہلی سے جو اُس آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کے آدم کے پاس لایا۔پیدائش باب ۲ آیت ۱۸ تا ۲۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء)