خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 290
خطابات شوری جلد اوّل ۲۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء پوری نہ اُتری اور جب تک عورت کے ذمہ بچوں کی پیدائش اور تربیت ہے اُس وقت تک مرد و عورت کا میدانِ عمل ایک نہیں ہوسکتا اور بچہ پیدا ہونے کی فطرت کا بدلنا انسانی طاقت سے بالا ہے۔بچوں کی پیدائش کے متعلق یورپ میں کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بہت سی بیماریاں عورتوں کو اس لئے ہوتی ہیں کہ ان کا فطرتی تقاضا بچہ پیدا ہونے کا روکا جاتا ہے۔عورتوں کا یہ فطری تقاضا ہے کہ اولاد ہو اور وہ اُس سے محبت کریں اُس کی تربیت کریں۔جب تک یہ تقاضا باقی ہے اس وقت تک وہی میدانِ عمل عورت کے لئے تجویز کرنا جو مرد کے لئے ہے بہت نقصان رسان ہے۔پس ایک طرف عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اور دوسری طرف یہ حالت کہ ان کا میدانِ عمل جدا گانہ ہے، یہ ایسے امور ہیں جن پر غور کرتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دوسروں کا نقال نہیں بنایا بلکہ دنیا کے لئے راہ نما بنایا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم دُنیا کی راہ نمائی کریں نہ یہ کہ دوسروں کی نقل کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم غور کریں کہ عورتوں کو کیسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ہمیں ہر قدم پر سوچنا اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہئے۔کرنا چاہئے اور ضرور کرنا چاہئے مگر غور اور فکر سے کام کرنا چاہئے۔اب تک ہماری طرف سے شستی ہوئی ہے۔ہمیں اب سے بہت پہلے اس پہلو پر غور کرنا چاہئے تھا اور اس کے لئے پروگرام تیار کرنا چاہئے تھا۔گو وہ پروگرام مکمل نہ ہوتا اور مکمل تو یک لخت قرآن شریف بھی نہ ہو گیا تھا۔پس یک لخت تو قدم او پر نہیں جا سکتا مگر قدم رکھنا ضرور چاہئے تھا۔میں اس بات کی زیادہ ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ پہلے اس بات پر غور ہونا چاہئے کہ عورتوں کو تعلیم کیسی دینی چاہئے۔مختلف زبانیں سکھانا تو ضروری بات ہے۔باقی امور میں ضروری نہیں کہ عورتوں کو اس رستے پر لے جائیں جس پر دوسرے لوگ لے جا رہے ہیں۔اعلیٰ تعلیم وہی نہیں جو یورپ دے رہا ہے مسلمانوں میں بھی اعلی تعلیم تھی ، مسلمان عورتیں بھی پڑھتی پڑھاتی تھیں۔پس ہمارے محکمہ تعلیم وتربیت کو اس بات پر خصوصیت سے غور کرنا چاہئے اور اگلے سال مجلس کے سامنے پیش کرنا چاہئے کہ ہمیں عورتوں کے لئے کیسی تعلیم کی ضرورت ہے۔اگلے سال کی سکیم میں اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ عورتوں کی