خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 288
خطابات شوری جلد اوّل ۲۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء ہے۔سکتے کہ وہ سکول غیر اقوام کے ہیں۔مسلمان لڑکیوں کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں نہیں پائی جاتیں۔پس جو دِقت پیش آ رہی ہے وہ اعلیٰ تعلیم کے متعلق اس سے مراد کالج کی تعلیم نہیں ہے۔فی الحال عورتوں کے لئے مڈل اور انٹر سکول کی تعلیم ہی اعلی تعلیم ہے۔لوگ چاہتے ہیں کہ اس کے متعلق اپنا انتظام ہو اس لئے یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ اگر ہوسٹل مفید ہو سکتا ہے تو وہ چھ سے نو سال تک کی لڑکیوں کا نہ ہوگا بلکہ اس سے اوپر کی عمر کی لڑکیوں کے لئے ہوگا۔پس دیکھنا یہ چاہئے کہ کیسی تعلیم دلانے کے لئے ہوٹل کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ایک اور نقطہ نگاہ بھی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ لڑکیوں نے تعلیم پا کر نوکری تو کرنی نہیں ان کی تعلیم کا صرف یہ مقصد ہے کہ ان کو اخلاق فاضلہ سکھائے جائیں۔ان میں دین کی محبت پیدا کی جائے۔گھر کی اچھی حفاظت کرنا سکھایا جائے۔اچھی بیویاں، اچھی مائیں ، اچھی ہمسایہ بنایا جائے اور یہ باتیں اردو کی تعلیم سے بھی سکھائی جاسکتی ہے۔اس لئے پرائمری سکول اس طرز کا کھولا جائے کہ اس میں سے سرکاری نصاب اُڑا دیا جائے اور ایسی پڑھائی رکھی جائے جو دینی اور دنیوی معاملات کے لئے ضروری ہو۔ایسی صورت میں چھوٹی لڑکیاں بھی لی جاسکتی ہیں۔میں اس معاملہ کے متعلق اس وقت کوئی رائے نہیں دے رہا بلکہ یہ بتا رہا ہوں کہ یہ مد نظر رہنا چاہئے کہ ہم چاہتے کیا ہیں اور ضرورت کس چیز کی ہے۔کیا یہ کہ لڑکیاں اردولکھ پڑھ سکیں اور انھیں دینی تعلیم بھی حاصل ہو جائے اور دوسری تربیت بھی کی جائے ؟ اس کے لئے اپنے طرز کا پرائمری سکول کھولنا پڑے گا۔اور اگر یہ چاہتے ہیں کہ اعلی تعلیم دلائی جائے جو مڈل سے اوپر ہو اور اس کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی انتظام ہو جس کے لئے ہوٹل ہو تو اس بات کو مد نظر رکھا جائے۔ایک دوست نے بڑے جوش سے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ہم ایک پائی نہیں خرچ کر رہے مگر یہ درست نہیں ہے۔یہاں مدرسہ خواتین گھلا ہے، پرائمری اور مڈل تک کی پڑھائی ہو رہی ہے، باہر بھی احمدی لڑکیوں کے پرائمری سکول ہیں اس لئے وہ بات نہ کہنی چاہئے جس سے غلط فہمی پیدا ہو اور یہ سمجھا جائے کہ ذمہ وار اصحاب اپنے فرائض ادا نہیں کر