خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 287
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۲۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء مدرسہ خواتین کے امتحان ایسے وقت میں رکھے گئے ہیں کہ لجنہ کی کارکن خواتین اس مجلس میں آنے کے قابل نہیں ہیں۔وہ آجکل کتاب کا کیڑا بنی ہوئی ہیں اور جو اس وقت مجلس میں شریک ہیں ان میں سے بہتوں کو بولنے کی مشق نہ ہو گی مگر اس خیال سے کہ انہیں یہ شکایت نہ ہو کہ انہیں بولنے کا موقع نہ دیا گیا، میں انہیں موقع دیتا ہوں۔اگر کوئی بولنا چاہے تو بولے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مجلس میں بیٹھے ہوئے عورتیں آ جاتیں اور آ کر کہتیں يَا رَسُولَ اللہ ! یہ بات ہے۔اس لئے اگر کوئی عورت اس وقت بولے گی تو یہ کوئی شرم کی بات نہ ہو گی۔اگر اس وقت یہاں میری بیویاں ہوتیں اور وہ بولتیں تو میں اس پر فخر محسوس کرتا نہ کہ کسی قسم کی شرم۔پس اگر کوئی عورت بول سکے تو میں موقع دیتا ہوں۔مستورات مشورہ کر لیں میں کچھ اور ضروری باتیں کہہ دیتا ہوں۔“ 66 ”میرے نزدیک زنانہ ہوسٹل کے متعلق غور کرتے وقت بعض باتوں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور وہ یہ ہیں کہ ہوسٹل کی ضرورت کن لڑکیوں کے لئے ہے؟ آیا اُن کے لئے جن کے ماں باپ قادیان میں رہتے ہیں یا اُن کے لئے جن کے والدین باہر ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ قادیان میں رہنے والے والدین کے لئے اس بات کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو ہوٹل میں داخل کرائیں۔ایسی ضرورت ان کو بھی پیش آسکتی ہے مگر یہ ایک فیصدی ہوگی۔اب سوال یہ ہے کہ قادیان میں ہوسٹل کھولنے کی غرض اگر یہ ہے کہ باہر سے لڑکیاں آئیں جنھیں دینی تعلیم دی جائے اور اُن کی تربیت کی جائے تو اس کے لئے یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اُن کی عمر ایسی ہو کہ وہ دینی تعلیم حاصل کر سکیں اور اگر عام تعلیم مد نظر ہو تو وہ یہی ہوسکتی ہے کہ جو تعلیم لڑکیاں باہر نہیں پاسکتیں وہ یہاں پائیں اور باہر جو تعلیم حاصل نہیں ہو سکتی وہ پرائمری کی تعلیم نہیں ہے۔پرائمری سکول ہر جگہ گھلے ہیں اور یہ تعلیم باہر بھی ہو سکتی ہے پس جس تعلیم کی ضرورت ہے اور جس کی جماعت خواہش کرتی ہے وہ اعلیٰ تعلیم ہے۔چنانچہ میرے پاس خطوط آتے رہتے ہیں کہ لڑکی پرائمری یا مڈل پاس کر چکی ہے۔اب اعلیٰ دینی اور دنیوی تعلیم دلانا چاہتا ہوں اس کے لئے کیا کیا جائے۔تو پرائمری زنانہ سکول قریباً ہر جگہ میسر آگئے ہیں مگر وقت یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے سکول دُور دُور ہیں اور دیہاتوں میں رہنے والے ماں باپ ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے اور اس لئے بھی نہیں اُٹھا