خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 286
خطابات شوری جلد اوّل " ۲۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء یہ رپورٹ جو ناظر صاحب تعلیم و تربیت نے سنائی ہے اس میں تین معاملے ہیں جن پر اصحاب نے غور کرنا ہے۔اب ان میں سے باری باری ایک ایک بات پیش کی جائے گی لیکن ایک بات میں درمیان میں کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجلس شوریٰ میں جو غور اور مشورہ ہوتا ہے اس کے متعلق میں ایک بات پہلے کہہ چکا ہوں۔امید ہے کہ ناظر صاحبان اور دوسرے احباب اسے مدنظر رکھیں گے وہ یہ ہے کہ اسلامی اصول شریعت کے مطابق کسی امر کے فیصلہ کا حق خلیفہ کو ہی ہے دوسروں کا کام مشورہ دینا ہے۔پس مجلس مشاورت کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ مشورہ دیتی ہے۔فیصلہ خلیفہ کرتا ہے۔مجلس مشاورت میں گفتگو کرتے وقت یا سب کمیٹی کی رپورٹوں میں کسی امر کا ذکر کرتے وقت یہ احتیاط ہونی چاہئے کہ یہ نہ کہا یا لکھا جائے کہ مجلس نے یہ فیصلہ کیا بلکہ یہ کہا جائے کہ مجلس نے یہ مشورہ دیا یا یہ کہ مجلس کے مشورہ دینے پر خلیفہ نے یہ فیصلہ کیا۔گو احباب جانتے ہیں عموماً وہی فیصلہ ہوتا ہے جو آپ لوگ مشورہ دیتے ہیں مگر شریعت کے احترام کے لئے ضروری ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کئے جائیں جو اُسی مفہوم کو ادا کریں جو شریعت کا منشاء ہے۔بعض اوقات ایسا ہوسکتا ہے کہ مشاورت کے فیصلہ کے یہی معنی سمجھے جائیں کہ جو خلیفہ نے فیصلہ کیا۔جیسے انگلستان میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ اور پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا۔اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہاں خلیفہ کے فیصلہ کو مجلس مشاورت کے نام سے بیان کیا جائے اور اس سے مراد یہی ہو کہ وہ فیصلہ خلیفہ نے کیا لیکن ابھی چونکہ یہ بات رائج نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو دھوکا لگ جائے اور غلط مفہوم پیدا ہو جائے اس لئے یہی کہنا چاہئیے کہ فلاں فیصلہ جو خلیفہ نے کیا یا یہ کہ فلاں وقت جو فیصلہ ہوا وہ یہ ہے۔اس میں یہ مفہوم آجاتا ہے کہ وہ فیصلہ جو خلیفہ نے کیا تھا۔اور اگر نام لینا ہو تو یوں کہا جائے کہ فلاں بات کا فلاں مجلس مشاورت میں خلیفہ نے جو فیصلہ کیا تھا وہ یہ ہے۔“ اس کے بعد سب کمیٹی تعلیم و تربیت کی پہلی تجویز پر جولڑکیوں کے بورڈنگ کے متعلق تھی گفتگو شروع ہوئی۔حضور نے فرمایا : - دو یہ معاملہ جو اس وقت پیش ہے اس کا بہت بڑا تعلق عورتوں سے ہے اور میرے نزدیک وہ مستحق ہیں کہ اُن کی رائے بھی ہم اس کے متعلق سُنیں اس لئے گو ہمارے