خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 6

خطابات شوری جلد اوّل اس موقع پر فائدہ اُٹھا سکیں اور قادیان سے ان کا زیادہ تعلق ہو۔مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مشورہ کا طریق اب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفاء کے زمانہ میں مشورہ کا جو طریق تھا وہ بیان کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء تین طریق سے مشورہ لیتے تھے:۔(۱) جب مشورہ کے قابل کوئی معاملہ ہوتا تو ایک شخص اعلان کرتا کہ لوگ جمع ہو جائیں اس پر لوگ جمع ہو جاتے۔عام طور پر یہی طریق رائج تھا کہ عام اعلان ہوتا اور لوگ جمع ہو کر مشورہ کر لیتے اور معاملہ کا فیصلہ خلیفہ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کر دیتے۔اس زمانہ میں اس طریق میں بعض وقتیں ہیں جو آجکل کی رسم و رواج کا نتیجہ ہیں اس لئے میں قادیان کے لوگوں سے مشورہ لیتا ہوں مگر اس طریق سے نہیں بلکہ اس کی شکل میں تغیر کر کے۔حضرت صاحب بھی اس طرح نہیں لیتے تھے اور میں نے بھی حضرت صاحب کو دیکھ کر اس میں تبدیلی کی جو اس زمانہ کے حالات کی وجہ سے ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں ہر جماعت کا سردار اور امیر ہوتا تھا جو لوگ جمع ہوتے وہ جو بات سنتے اُس کا جواب خود نہ دیتے بلکہ کہتے ہمارا امیر جواب دیگا ہمارا حق نہیں کہ بولیں۔اس بات کا اُن میں خاص احساس تھا اور ہر ایک کھڑا نہیں ہو جاتا تھا بلکہ ان کا سردار جواب دیتا تھا جمع تو سارے ہوتے تھے مگر بولتا وہی تھا جسے انہوں نے اپنا امیر منتخب کیا ہوتا تھا۔بعض دفعہ آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں جوش میں آکر کوئی بول پڑا کہ ہم اس طرح کرینگے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری بات نہیں مانتا اپنے سردار سے کہو وہ آکر کہے۔چونکہ عام طور پر مشورہ کے لئے علم اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یوں تو اگر سو باتیں پیش کی جائیں تو بچے بھی کچھ نہ کچھ اپنی رائے دے دیں گے اور آجکل ایسا ہی ہوتا ہے۔ہر ایک رائے دینے کی قابلیت کا دعویدار ہوتا ہے اور رائے دیتا ہے مگر رائے وہی دے سکتا ہے جو سوچ سکتا اور تجربہ رکھتا ہو اسلئے ہر ایک رائے قابلِ توجہ نہیں ہوتی اور نہ اس سے کوئی مفید نتیجہ نکلتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں سردار مشورہ دیتے تھے ہر ایک نہیں بولتا