خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 5

خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء مگر یہ مجلس شوری خود خلیفہ نے بلائی ہے اس کی اغراض اور ہیں اور وہ یہ ہیں :۔(۱) جیسا کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں قاعدہ تھا احباب سے ضروری معاملات کے متعلق مشورہ لیا جائے ، اُس وقت ریلیں نہ تھیں اور ایسے سامانِ سفر نہ تھے جیسے اب ہیں اس لئے قاعدہ یہ تھا کہ مدینہ کے لوگوں کو جمع کر لیا جاتا۔خلفاء کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا کہ مدینہ کے لوگوں سے مشورہ لیا جاتا مگر اب چونکہ سامانِ سفر بہت پیدا ہو گئے ہیں اور آسانی سے لوگ جمع ہو سکتے ہیں اور میں نہیں جانتا آگے اور ترقی کہاں تک ممکن ہے ہو سکتا ہے ہوائی جہازوں کی وجہ سے سفر میں ایسی آسانی ہو جائے کہ کلکتہ کے لوگ یہاں مشورہ کر کے اُسی دن واپس جاسکیں۔ایسی صورت میں مجلس مشاورت کو زیادہ وسیع کرنا ضروری ہے کیونکہ وسعت سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے اس لئے میں نے احباب کو بلایا ہے کہ وہ اپنی اپنی رائے بتائیں تا کہ اگر کوئی مفید ہو تو اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اس میں شبہ نہیں کہ باہر کے لوگ مقامی حالات سے واقف نہیں مگر سارے معاملات ایسے نہیں ہیں کہ جن میں مشورہ دینے کے لئے پچھلے حالات سے واقف ہونا ضروری ہو۔بعض معاملات عقلی ہوتے ہیں اُن میں باہر کا آدمی بھی اُسی طرح بلکہ بعض حالات میں اچھی رائے دے سکتا ہے جیسا کہ قادیان کا رہنے والا دے سکتا ہے۔(۲) باہر کے احباب یہاں کی تکالیف سے واقف نہیں ہوتے انہیں جب کہا جاتا ہے کہ چندہ دوتو وہ حیران ہوتے ہیں کہ اتنا روپیہ جاتا کہاں ہے اور اُن میں حالات کی ناواقفیت سے اتنا جوش پیدا نہیں ہوتا جتنا واقفیت سے پیدا ہو سکتا ہے اس لئے میں نے سمجھا کہ اُن کو واقفیت کرائی جائے اور کارکنوں کی مشکلات کا اندازہ لگانے کا موقع دیا جائے۔(۳) بعض کاروباری آدمی ایسے ہوتے ہیں جو مشورہ دے سکتے ہیں۔گورنمنٹ کے کام کرنے والے بڑے ماہر ہوتے ہیں مگر اُن کو بھی ایکسپرٹ منگانے پڑتے ہیں جن سے مشورے لیتے ہیں۔ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں اُن کو بلایا گیا ہے تا کہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر مفید مشورہ دیں۔(۴) بعض احباب قادیان آنے میں سُست ہیں اس طرح انہیں یہاں آنے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے پھر یہ کہ جو لوگ جلسہ کے ایام میں یہاں آنے سے محروم رہتے ہیں وہ