خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 4
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء کے مختلف لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لے لیا جائے تاکہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شوری ہے۔میں پورے طور پر تو نہیں کہہ سکتا کہ باہر کی کا نفرنسیں کن اغراض کے لئے منعقد ہوتی ہیں مگر یہ مجلس شوری ہے۔پہلی کانفرنسوں اور اس میں فرق اس میں اور پہلی کانفرنسوں میں جو ہوتی رہی ہیں فرق ہے اور وہ یہ کہ پہلی کانفرنسیں صدر انجمن کے سیکرٹری کے بُلانے پر ہوتی تھیں مگر یہ خلیفہ کے بلانے پر منعقد ہوئی ہے۔اُن کا نفرنسوں کا کام محدود اور شاید طریق عمل بھی مختلف تھا۔مگر اس کا کام بہت زیادہ اور وسیع اور اس کا طریق عمل بھی مختلف ہے۔میں نہیں جانتا کہ اُن کا طریق عمل کیا تھا مگر ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اُن کا نفرنسوں کی وجہ سے دو متضاد خیال پیدا ہو گئے تھے۔ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی اُس میں میں بھی شامل تھا۔اُس سے میں نے معلوم کیا کہ اس کے ساتھ ہی دو متضاد خیال پیدا ہو گئے۔بعض نے کہا کہ اس کا نفرنس کا فیصلہ قطعی ہو اور مجلس معتمدین کا فیصلہ اس کے ماتحت ہو۔جہاں تک مجھے یاد ہے شملہ کے دوستوں نے یہ سوال اُٹھایا تھا اور بہت سے لوگوں نے اس کی تائید کی تھی۔وہ جو اس کا نفرنس کو بلانے والے تھے اُنہیں یہ بات کھٹکی اور اُنھوں نے ایسی تقریریں کیں کہ فیصلہ انجمن کا ہی ناطق ہو۔چنانچہ پہلے تو بجٹ منظوری کے لئے پیش کیا گیا لیکن پھر مشورہ کے لئے قرار دیا گیا۔میرے خیال میں اس رنگ میں کا نفرنس کا نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ کانفرنس جس میں ساری جماعت کے قائم مقام ہوں ایک محدود آدمیوں کے مجمع کے او پر برتری کا خیال پیدا ہو مگر چونکہ کا نفرنس منعقد کر نیوالوں کی نیتیں اور تھیں اس لئے انہوں نے کانفرنس کا کوئی اصل قائم نہ کیا۔اُن کا خیال تو یہ تھا کہ اس طرح خلافت کو نقصان پہنچایا جائے اور جماعت کی رائے کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔جب یہ بات حاصل ہو جائیگی تو خلافت کا فیصلہ کر لیں گے مگر چونکہ کا نفرنس اُن کے ہی خلاف ہوگئی اس لئے انھوں نے تو ڑ دی۔کانفرنس کی اغراض مگر اس کا نفرنس کی وہ غرض نہیں جو اُن کی تھی کیونکہ اُسے اُن لوگوں نے بُلایا تھا جو اپنے آپ کو خلافت کا مد مقابل سمجھتے تھے