خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 188

خطابات شوری جلد اوّل ۱۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء وہ اپنی طرف سے پیش نہ کیا تھا۔وہ جب خلیفہ کی طرف منسوب کر کے اُس پر اعتراض کئے جاتے ہیں تو ان کے جواب نہیں دیتے۔اس لئے جو دو باتیں میں نے بیان کی ہیں ان میں سے ایک ضرور ہے۔اور خواہ کوئی ہو افسوس ناک ہے۔پھر پوچھا گیا ہے کہ کس قسم کے سوالات اس موقع پر کئے جاسکتے ہیں اور کس قسم کے سوالات کی اس دفعہ اجازت دی گئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قسم کے حالات ہم نے سُنے اُن کو سوال کے طور پر درج کر دیا۔ان کے تجویز کرنے کی ذمہ داری کسی خاص آدمی پر نہیں پڑتی بلکہ اُن پر پڑتی ہے جنہوں نے اس قسم کے سوالات کا ازالہ نہیں کیا۔اب بتاؤ کیا صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ مشاورت کثرتِ رائے سے ایک فیصلہ کرتی ہے اور میں اُسے منظور کرتا ہوں۔پھر اگر اُس پر اعتراض ہوں تو اُن کی صورت کیا رہ جاتی ہے۔مثلاً یہ سوال کیا گیا ہے کہ برلن مشن کیوں بند کیا گیا ؟ حالانکہ اسی جگہ کثرتِ رائے نے یہ تجویز پیش کی تھی اور پھر اسے میں نے منظور کیا تھا۔بتاؤ اگر دوستوں نے کسی امر کے متعلق مشورہ دے کر اسی طرح بُھول جانا ہے اور جب کوئی اعتراض کرے تو ہم سے کہنا ہے کہ جواب دو تو پھر یہاں مجلس مشاورت میں ان کے آنے کا کیا فائدہ؟ ضروری ہے کہ وہ ان فیصلوں کو یا درکھیں جو یہاں ہوں اور ان کے متعلق اگر کوئی سوال کرے تو اسے جواب دیں۔اس قسم کے سوالات کے علاوہ باقی سوال جو تھے ان کے جواب ضروری تھے کیونکہ جب تک کسی بات کا علم نہ ہو انسان اُس کی اہمیت نہیں سمجھ سکتا۔ان سوالات میں سے بعض ایسے تھے جن کے جواب پورے نہیں دیئے گئے۔اس صیغہ کے ناظر صاحب نے نہ تو ان کی اہمیت کو سمجھا اور نہ پورا جواب دیا۔مثلاً یہ سوال کرنے والوں کا کہ مخالفین کی فلاں کتاب کا کیوں جواب نہیں دیا گیا اور فلاں کا کیوں نہیں ؟ منشاء یہ تھا کہ ان کے سامنے جو چند مولوی ہیں سید سرور شاہ صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ، مولوی فضل الدین صاحب وہ کیا کر رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ دینا چاہئے تھا کہ یہ اور کاموں پر ملازم ہیں تصنیف و تالیف کے کام پر نہیں۔سوائے مولوی فضل الدین صاحب کے جس طرح اور ملازم ۵-۶ گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی پڑھاتے ہیں۔اگر ان سے یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ اُنہوں نے کتنی کتابیں تصنیف کی ہیں تو یہ بھی حق ہونا