خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 189
خطابات شوری جلد اوّل ۱۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء چاہئے کہ ہم منشی فرزند علی صاحب سے پوچھیں کہ اُنہوں نے کتنی کتا بیں تصنیف کی ہیں کیونکہ جس طرح وہ کام کرتے ہیں اُسی طرح یہ لوگ بھی کام کرتے ہیں۔سلسلہ کے کام کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کام کرنے والے کا دماغ ہر وقت تازہ اور کام کے قابل رہتا ہے اور انہیں آرام کی ضرورت نہیں ہوتی۔جس طرح شملہ، دہلی ، کلکتہ میں کام کرنے والے کا دماغ پانچ چھ گھنٹے کام کرنے کے بعد کام کے قابل نہیں رہتا اسی طرح یہاں بھی ہوتا ہے اور وہ لوگ جو ایک مستقل کام پر مقرر ہیں وہ کوئی دوسرا مستقل کام نہیں کر سکتے اور جو کچھ ان کو ملتا ہے اس کے معاوضہ میں وہ ایسا ہی کام کرتے ہیں جیسا آپ لوگ کرتے ہیں۔اس کے بعد کوئی حق نہیں رہتا کہ انہیں کہا جائے کہ اور وقت دو۔ان پر اتنا ہی حق رہتا ہے جتنا اور لوگوں سے کہیں کہ اپنا وقت دو۔جتنا باہر کے لوگ کام کر سکتے ہیں اتنا ہی یہاں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں مگر یہ علاوہ اس کے بھی کام کرتے ہیں۔مثلاً میر محمد الحق صاحب کے سپر د ضیافت کا کام ہے۔آپ لوگ جب یہاں آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ میر صاحب کس طرح کام کرتے ہیں۔پھر وہ مدرسہ کے کارکن ہیں جہاں سے انہیں وظیفہ ملتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ ضیافت کا کام کرتے ہیں اب ان کے متعلق یہ کہنا کہ اگر اُنہوں نے کوئی تصنیف نہیں کی تو مجرم ہیں، یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔پھر اُنہوں نے تصنیف کا کام بھی کیا ہے اور اس طرح دُگنا کام کیا ہے۔پھر مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں جو مدرسہ میں کارکن ہیں وہ صیغہ وصایا کے انچارج بھی ہیں، افتاء کا کام بھی کرتے ہیں۔اگر وہ مدرسہ میں پڑھانے کے بعد کہتے کہ میرا دماغ تھک گیا ہے جس طرح باہر کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم ملازمت کا کام کرنے کے بعد تھک جاتے ہیں تو پھر نہ آپ کا اور نہ میرا حق ہے کہ انہیں کہیں اور کام کیوں نہیں کرتے۔اگر وہ وصایا کا کام بھی کرتے ہیں جس سے چندہ میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ آنریری کام کرتے ہیں۔تیرے حافظ روشن علی صاحب ہیں علاوہ اس کے کہ وہ مبلغین کلاس کے مدرس ہیں اور کام بھی کرتے ہیں۔مدارس میں ایک مدرس نہیں ہوا کرتا بلکہ کئی ہوتے ہیں مگر ان ایک کے سپر د ایک جماعت کی گئی ہے۔اس کے بعد ہمارا حق نہیں کہ ان سے پوچھیں اور کیا کام