خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 187
خطابات شوری جلد اوّل IAZ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء کے بارہ میں بعض سوالات کے جوابات دیئے گئے۔اس کے بعد احباب سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: پوچھا گیا ہے کہ سوالات کے جو جواب دیئے گئے ہیں ان کے متعلق پوچھنے کا بھی حق ہے یا نہیں؟ میرے نزدیک ضرورحق ہے لیکن اس کے لئے کل موقع دیا جائے گا۔ایک صاحب نے رقعہ دیا ہے کہ سالانہ رپورٹوں میں ایجنسی کی رپورٹ نہیں پڑھی گئی۔منتظمین کو چاہئے آئندہ اس کے متعلق خیال رکھیں۔اس وقت سب سے بڑی غلطی پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے ہوئی ہے۔نظارتوں کی رپورٹوں کے لئے ایک سو چالیس منٹ رکھے گئے تھے مگر نظارتوں کی جولسٹ بنا کر اُنہوں نے مجھے دی اُس میں کام کیلئے ایک سو ساٹھ منٹ رکھے اور پھر ایک نظارت کا نام لکھنا ہی بھول گئے۔اس طرح ایک سو اسی منٹ میں کام ختم ہوا۔اس قسم کی غلطیاں افسوسناک ہیں آئندہ احتیاط ہونی چاہئے۔بعض نے شکایت کی ہے کہ بعض سوالات کے جواب جب پہلے سے شائع شدہ ہیں تو پھر اس قسم کے سوالات کو اس موقع کے لئے کیوں رکھا گیا ؟ بات یہ ہے کہ بعض سوال چکر لگانے لگ جاتے ہیں۔اس وجہ سے ان کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔بیشک بعض سوالات ایسے ہیں جو گزشتہ سال کی مجلس مشاورت میں پیش ہوئے اور نمائندوں نے ان کے متعلق مشورہ دیا اور فیصلہ کیا مگر میں نے دو باتیں بتانے کے لئے ان کو پھر پیش کرنے کا موقع دید یا۔ایک تو یہ کہ معلوم ہو جائے لوگ کیسے ناواجب سوال کرتے ہیں۔مجلس میں ایک بات پیش کی جاتی ہے، کثرتِ رائے اُس کی تائید کرتی ہے اور میں کثرتِ رائے کو منظور کر کے اس کے متعلق فیصلہ کرتا ہوں مگر پھر اُسی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اندھیر ہو گیا ایسا کیوں کیا گیا؟ حالانکہ اُس کے متعلق ایک سو چھپیں نمائندوں میں سے ایک سو چودہ نے تائید کی تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو ان کے نزدیک سلسلہ کی باگ اُن کے ہاتھ میں ہے جو یہاں نمائندے بن کر نہ آئے تھے۔یا پھر یہ ہے کہ نمائندے جو رائے دے کر جاتے ہیں وہ جب چھپ کر ان کے پاس پہنچتی ہے تو وہ بھی انہیں یاد نہیں رہتی کہ اپنی مجالس میں جواب دے سکیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس امر کے متعلق مجلس میں کیا فیصلہ ہوا اور جب فیصلہ چھپا ہوا جاتا ہے تو اُس کو پڑھتے بھی نہیں کیونکہ وہ فیصلہ جو مجلس نے پیش کیا خود نمائندوں نے اُس کی تائید میں رائے دی۔خلیفہ نے